۵۹۳۱: قَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصُّوْفِیُّ قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِیُّ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَسُفْیَانُ بْنُ سَعِیْدٍ الثَّوْرِیُّ جَمِیْعًا أَنَّ رَبِیْعَۃَ بْنَ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الرَّأْیَ حَدَّثَہُمْ جَمِیْعًا عَنْ یَزِیْدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ وَزَیْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُہَنِیُّ أَنَّہٗ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَسَأَلَہٗ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَاِلَّا فَشَأْنُک بِہَا .قَالَ : فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ ہِیَ لَک أَوْ لِأَخِیْک أَوْ لِلذِّئْبِ .قَالَ : فَضَالَّۃُ الْاِبِلِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتّٰی یَلْقَاہَا رَبُّہَا
٥٩٣١: یزید مولیٰ منبعث اور زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے ایک آدمی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت گرامی میں حاضر ہوا میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا اور اس نے لقطہ کے متعلق سوال کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کا بندھن اور سربند خوب پہچان لو پھر اس کی تشہیر ایک سال تک کرو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو مناسب ہے ورنہ تم جانو اور وہ شئی۔ اس نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے۔ فرمایا وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑئے کے لیے ہے پھر اس نے گمشدہ اونٹ سے متعلق دریافت کیا تو فرمایا۔ اس کا مشکیزہ اور موزہ اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جائے گا اور درختوں سے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے (اسے نہ چلنے میں دقت نہ پانی کی پریشانی بلکہ برداشت پر قدرت ہے)
تخریج : بخاری فی العلم باب ٢٨‘ المساقاۃ باب ١٢‘ واللقطہ باب ٢؍٤‘ ٩؍١١‘ والطلاق باب ٢٢‘ مسلم فی اللقطہ ١؍٥‘ ٢‘ ابو داؤد فی اللقطہ باب ١‘ ترمذی فی الاحکام باب ٣٥‘ ابن ماجہ فی للقطہ باب ١‘ مالک فی الاقضیہ ٤٦‘ مسند احمد ٤‘ ١١٦؍١١٧۔