۵۹۴۰: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ سَمِعْتُ سُوَیْد بْنَ غَفَلَۃَ یَقُوْلُ : قَدْ کُنْتُ خَرَجْتُ حَاجًّا فَأَصَبْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُہَا .فَقَالَ لِیْ زَیْدُ بْنُ صُوْحَانَ : دَعْہَا عَنْک فَقُلْتُ :وَاللّٰہِ لَا أَدَعُہَا لِلسِّبَاعِ وَلَآخُذَنَّہَا فَلِأَسْتَنْفِعَنِّ بِہَا .فَلَقِیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَذَکَرْتُ لَہٗ ذٰلِکَ فَقَالَ لِی : لَقَدْ أَحْسَنْتُ فِیْ أَخْذِہَا فَاِنِّیْ قَدْ کُنْتُ وَجَدْت صُرَّۃً فِیْہَا مِائَۃُ دِیْنَارٍ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُہَا ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُہٗ َا لَہٗ فَقَالَ عَرِّفْہَا حَوْلًا کَامِلًا .قَالَ : فَعَرَّفْتُہَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا .قَالَ : فَأَتَیْتُ بِہَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اذْہَبْ فَعَرِّفْہَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُہَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا .ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْہَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُہَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا .فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ احْفَظْ عَدَدَہَا وَوِعَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَاِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِہَا .قَالَ شُعْبَۃُ : ثُمَّ اِنَّ سَلَمَۃَ بْنَ کُہَیْلٍ شَکَّ فِیْ ذٰلِکَ لَا یَدْرِی أَثَلَاثَۃَ أَعْوَامٍ قَالَ فِی الْحَدِیْثِ : أَوْ عَامًا وَاحِدًا ؟ .قَالَ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ : فَأَعْجَبَنِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثُ فَقُلْت لِأَبِیْ صَادِقٍ ذٰلِکَ فَقَالَ أَبُوْ صَادِقٍ : وَقَدْ سَمِعْتُ أَنَا ذٰلِکَ الْحَدِیْثَ أَیْضًا مِنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ کَمَا قَدْ سَمِعَہُ سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ مِنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ سَوَائً .
٥٩٤٠: سوید بن غفلہ کہتے ہیں میں حج کرنے نکلا تو میں نے ایک کوڑا گرا پڑا پایا۔ میں نے اسے لے لیا۔ تو مجھے زید بن صوحان کہنے لگے اس کو چھوڑ دو ۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں تو اسے درندوں کے لیے نہ چھوڑوں گا بلکہ اس کو ضرور پکڑوں گا اور اس سے فائدہ اٹھاؤں گا پھر میری ملاقات حضرت ابی بن کعب (رض) سے ہوئی تو میں نے ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے مجھے فرمایا تو نے اس کو اٹھانے میں اچھا کام کیا۔ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں سو دینار کی ایک تھیلی پائی تھی میں نے اسے اٹھا لیا پھر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اس کی ایک سال تشہیر کرو۔ پس میں نے اس کا جاننے والا نہ پایا۔ پھر میں خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آیا۔ تو آپ نے فرمایا جاؤ‘ اس کا ایک سال اعلان کرو (میں نے اعلان کروایا) مگر کوئی آدمی نہ آیا پھر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا اس کو ایک سال اور مشہور کرو پس میں نے ایک سال اس کا اعلان کیا مگر کوئی اس کا مالک نہ مل سکا تو مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی گنتی اچھی طرح محفوظ کرلو اور اس کا برتن (تھیلی) اور اس کا سربند محفوظ کرلو اور تسمیہ بھی حفاظت سے رکھ لو اگر مالک آجائے تو مناسب ورنہ اس سے نفع اٹھاؤ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سلمہ بن کھیل کو اس میں شک ہے اس کو معلوم نہیں رہا کہ تین سال فرمایا یا ایک سال فرمایا۔ سلمہ بن کھیل کہتے ہیں مجھے یہ روایت پسند آئی تو میں نے ابو صادق سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا میں نے خود یہ حضرت ابی بن کعب (رض) سے سنی ہے جیسا کہ سوید بن غفلہ نے ابی بن کعب (رض) سے بعینہٖ سنی ہے۔
تخریج : بخاری فی اللقطہ باب ١؍١٠‘ مسلم فی اللقطہ ٨‘ مسند احمد ٥‘ ١٢٦؍١٢٧‘ ١٤٣۔