۵۹۴۱: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ الْمُنْقِرِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّہٗ قَالَ : کُنْتُ الْتَقَطْتُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِائَۃَ دِیْنَارٍ فَأَتَیْتُ بِہَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ لِیْ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَہٗ : عَرَّفْتُہَا سَنَۃً فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا فَقَالَ لِیْ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَہٗ : عَرَّفْتُہَا سَنَۃً فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا فَقَالَ لِیْ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا فَقَالَ لِی اعْلَمْ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٩٤١: سوید بن غفلہ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں سو دینار گرے پڑے پائے۔ تو میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے مجھے ارشاد فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پس میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا پھر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا میں نے ایک سال بھر اس کا اعلان کیا مگر کوئی اس کا پہچاننے والا نہیں ملا۔ تو آپ نے مجھے فرمایا اس کو ایک سال تک مشہور کرو پس میں نے ایک سال تک اعلان کیا تو میں نے کسی کو بھی نہ پایا جو اس کا پہچاننے والا ہو۔ پھر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا میں نے اس کو ایک سال تک مشہور کیا ہے مگر میں نے اس کا پہچاننے والا نہیں پایا آپ نے پھر فرمایا۔ اس کو ایک سال اور مشہور کرو۔ پس میں نے ایک سال اور اعلان کیا مگر اس کا کوئی مالک نہ آیا تو آپ نے مجھے فرمایا اس کی گنتی اچھی طرح جان لو اور اس کا سر بنو ‘ پہچان لو پھر اس سے فائدہ اٹھاؤ۔
تخریج : بخاری فی العلم باب ٢٨‘ واللقطہ باب ٢؍٣‘ ٤؍٩‘ مسلم فی اللقطہ ١‘ ٥‘ ٢‘ ٧‘ ابو داؤد فی اللقطہ باب ١‘ نسائی فی الزکوۃ باب ٢٨‘ مالک فی الاقضیہ ٤٦‘ مسند احمد ٥‘ ١٢٦؍١٢٧۔
حضرت عمر (رض) کی روایت :