۵۹۴۲: مَا قَدْ حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْأَصْبَہَانِیُّ قَالَ : أَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ کَثِیْرٍ أَنَّہٗ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَیْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبِیْعَۃِ أَنَّ أَبَاہُمَا سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ قَدْ کَانَ وَجَدَ عُتْبَۃَ فَأَتَی بِہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہٗ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَاِنْ عُرِفَتْ فَذَاکَ وَاِلَّا فَہِیَ لَک .قَالَ : فَعَرَّفَہَا سَنَۃً فَلَمْ تُعْرَفْ .فَأَتَی بِہَا عُمَرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ أَوْ الْقَابِلَ فِی الْمَوْسِمِ فَأَخْبَرَہٗ بِذٰلِکَ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ ہِیَ لَک .وَقَالَ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ أَمَرَنَا بِذٰلِکَ .فَأَبَیْ سُفْیَانُ أَنْ یَأْخُذَہَا فَأَخَذَہَا مِنْہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجَعَلَہَا فِیْ بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِیْنَ .
٥٩٤٢: سفیان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے دروازے کی چوکھٹ کا بازو پایا وہ حضرت عمر (رض) کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو اگر پہچان والا مل جائے تو یہ اسی کی ہے ورنہ یہ تیری ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سفیان نے ایک سال تشہیر کی مگر کوئی پہچان والا نہ آیا پھر وہ عمر (رض) کے پاس آئندہ سال حج کے موقعہ پر لائے اور ان کو اس کی اطلاع دی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہ تیری ہے اور فرمایا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس بات کا حکم فرمایا ہے تو سفیان نے اس کو لینے سے انکار کردیا۔ تو اس سے حضرت عمر (رض) نے لے لی اور مسلمانوں کے بیت المال میں رکھ دی۔