hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5944

.

الطحاوي

5944
Al Tahawi
۵۹۴۳: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ اللِّہْبِیِّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ أَبِیْ فُدَیْکٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَاِنْ جَائَ بَاغِیہَا فَأَدِّہَا اِلٰی صَاحِبِہَا وَاِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا فَاِنْ جَائَ بَاغِیہَا فَأَدِّہَا اِلٰی بَاغِیہَا .أَفَلَا تَرَی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُعَنِّفْ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فِیْ أَخْذِہِ تِلْکَ الدَّنَانِیْرَ حِیْنَ أَخَذَہَا وَقَدْ صَوَّبَ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فِیْ أَخْذِہِ السَّوْطَ لِیَحْفَظَہَا عَلٰی صَاحِبِہَا وَلَا یَدَعُہَا لِلسِّبَاعِ .وَقَدْ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِیْ حَدِیْثِ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ہِیَ مَالُک قَدْ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ .فَلَمَّا أَنْ أَبَیْ سُفْیَانُ ذٰلِکَ جَعَلَہَا عُمَرُ فِیْ بَیْتِ الْمَالِ .وَقَدْ : أَجَازَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْذَ اللُّقَطَۃِ وَالضَّالَّۃِ لَأَنْ یَحْفَظَہُمَا عَلٰی صَاحِبِہِمَا .وَقَدْ رَوَی أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٩٤٣: بشر بن سعید نے زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی ایک سال تشہیر کرو۔ اگر اس کا متلاشی آجائے تو اس کو دے دو ورنہ اس کا سربند پہچان لو اور اس کا بندھن جان لو۔ اگر متلاشی آجائے تو متلاشی کے حوالہ کر دو ۔ اس میں غور فرمائیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے اٹھانے پر ڈانٹ نہیں پلائی اور حضرت ابی (رض) نے کوڑا اٹھانے والے کے عمل کی تصویب فرمائی تاکہ مالک کے لیے اس کو محفوظ کرلیا جائے اور درندوں کے لیے اس کو نہ چھوڑا جائے اور حضرت عمر (رض) نے روایت سفیان میں سفیان کو فرمایا یہ تیری ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی کا حکم فرمایا پھر جب سفیان نے لینے سے انکار کیا تو آپ نے اس کو مسلمانوں کے بیت المال میں رکھ دیا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لقطہ اور گمشدہ کو لینے کی اجازت دی تاکہ اس کو محفوظ کیا جائے۔ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس سلسلہ میں روایات وارد ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی اللقطہ باب ١‘ مسند احمد ٥؍١٩٣۔
اس سلسلہ میں اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دیگر روایات :