۵۹۹۵: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ قَالَ : أَنَا شَیْبَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ ؟ قَالَ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ یَجِیْئُ قَوْمٌ یَسْبِقُ شَہَادَۃُ أَحَدِہِمْ یَمِیْنَہُ وَیَمِیْنُہُ شَہَادَتَہُ .قَالَ اِبْرَاھِیْمُ : کَانَ أَصْحَابُنَا یَنْہَوْنَنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ أَنْ نَحْلِفَ بِالشَّہَادَۃِ وَالْعَہْدِ .فَدَلَّ ہٰذَا مِنْ قَوْلِ اِبْرَاھِیْمَ أَنَّ الشَّہَادَۃَ الَّتِیْ ذٰمَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاحِبَہَا ہِیَ قَوْلُ الرَّجُلِ أَشْہَدُ بِاَللّٰہِ مَا کَانَ کَذَا عَلَی مَعْنَی الْحَلِفِ فَکَرِہَ ذٰلِکَ کَمَا یُکْرَہُ الْحَلِفُ لِأَنَّہٗ مَکْرُوْہٌ لِلرَّجُلِ الْاِکْثَارُ مِنْہُ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا .فَنَہٰی عَنِ الشَّہَادَۃِ الَّتِی ہِیَ حَلِفٌ کَمَا نَہٰی عَنِ الْیَمِیْنِ اِلَّا أَنْ یُسْتَحْلَفَ بِہَا فَیَکُوْنَ حِیْنَئِذٍ مَعْذُوْرًا .وَلَعَلَّہٗ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِالشَّہَادَۃِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا الْحَلِفَ عَلٰی مَا لَمْ یَکُنْ لِقَوْلِہٖ ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ فَتَکُوْنُ تِلْکَ الشَّہَادَۃُ شَہَادَۃَ کَذِبٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ تَفْضِیْلِ الشَّاہِدِ الْمُبْتَدِئِ بِالشَّہَادَۃِ
٥٩٩٥: ابراہیم نے عبیدہ سے انھوں نے عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا میرے زمانہ والے پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر کچھ لوگ ایسے آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے سبقت کرنے والی ہوگی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت کرنے والی ہوگی۔ ابراہیم کہتے ہیں جب ہم بچے تھے تو ہمارے احباب ہمیں شہادت و عہد کے ساتھ قسم اٹھانے سے منع کرتے تھے۔ ابراہیم کا یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شہادت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذمت فرمائی اس سے مراد کسی آدمی کا اس طرح بطر حلف کہنا ہے ” اشہد باللہ ماکان کذا ‘ پس اس کو ناپسند کیا گیا جیسا کہ حلف کو بھی ناپسند کیا گیا اگرچہ آدمی سچا ہو مگر اسے ایسا بار بار کہنا ناپسندیدہ حرکت ہے۔ پس شہادت والے حلف سے روکا گیا جیسا کہ قسم سے روکا گیا ہاں اگر اس سے حلف اٹھوایا جائے گا تو اس وقت وہ معذور شمار ہوگا۔ ممکن ہے اس مذکورہ شہادت سے مراد ایسے کام پر قسم کھانا ہو جو وقوع پذیر نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ نے فرمایا پھر جھوٹ پھیل جائے گا پس اس گواہی سے مراد جھوٹی گواہی ہوگی۔
تخریج : بخاری فی الشہادات باب ٩‘ والایمان باب ١٠‘ مسلم فی فضائل الصحابہ ٢١٠؍٢١١‘ ترمذی فی المناقب باب ٥٦‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٢٧‘ مسند احمد ١؍٤١٧‘ ٥؍٣٥٧۔
شہادت میں پہل کرنے والے کی فضیلت :