hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5998

.

الطحاوي

5998
Al Tahawi
۵۹۹۶: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِیْ عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ الشُّہَدَائِ ؟ الَّذِیْ یَأْتِی بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَ عَنْہَا أَوْ یُخْبِرَ بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَہَا .قَالَ مَالِکٌ : الَّذِیْ یُخْبِرُ بِشَہَادَتِہٖ وَلَا یَعْلَمُ بِہَا الَّذِی ہِیَ لَہٗ أَوْ یَأْتِی بِہَا الْاِمَامَ فَیَشْہَدُ بِہَا عِنْدَہُ وَجَعَلَہٗ خَیْرَ الشُّہَدَائِ .فَأَوْلَی بِنَا أَنْ نَحْمِلَ الْآثَارَ الْأُوَلَ عَلٰی مَا وَصَفْنَا مِنْ تَأْوِیْلِ کُلِّ أَثَرٍ مِنْہَا حَتّٰی لَا تَتَضَادَّ وَلَا تَخْتَلِفَ وَلَا یَدْفَعَ بَعْضُہَا بَعْضًا .فَتَکُوْنُ الْآثَارُ الْأُوَلُ عَلَی الْمَعَانِی الَّتِیْ ذٰکَرْنَا وَتَکُوْنَ ہٰذِہِ الْآثَارُ الْأُخَرُ عَلَی تَفْضِیْلِ الْمُبْتَدِئِ بِالشَّہَادَۃِ مَنْ ہِیَ لَہٗ أَوْ الْمُخْبِرُ بِہَا الْاِمَامُ .وَقَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَوُا الْاِمَامَ فَشَہِدُوْا ابْتِدَائً مِنْہُمْ أَبُوْبَکْرَۃَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ حِیْنَ شَہِدُوْا عَلَی الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ فَرَأَوْا ذٰلِکَ لِأَنْفُسِہِمْ لَازِمًا وَلَمْ یُعَنِّفْہُمْ عُمَرُ عَلٰی ابْتِدَائِہِمْ اِیَّاہُ بِذٰلِکَ بَلْ سَمِعَ شَہَادَاتِہِمْ .وَلَوْ کَانُوْا فِیْ ذٰلِکَ مَذْمُوْمِیْنَ لَذَمَّہُمْ مَنْ سَأَلَکُمْ عَنْ ہٰذَا ؟ أَلَا قَعَدْتُمْ حَتّٰی تُسْأَلُوْا ؟ .فَلَمَّا سَمِعَ مِنْہُمْ وَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ عُمَرُ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ کَانَ بِحَضْرَتِہِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ فَرْضَہُمْ کَذٰلِکَ وَأَنَّ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ ابْتِدَائً لَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ مَحْمُوْدٌ .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ
٥٩٩٦: ابو عمرہ انصاری نے زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بہترین گواہ نہ بتلاؤں پھر فرمایا جو مطالبہ کرنے سے پہلے گواہی دے اور مطالبہ سے پہلے اپنی شہادت کی خبر اور اطلاع دے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں جو اپنی گواہی کی خبر دے جبکہ صاحب حق کو اس کی گواہی کا علم بھی نہ ہو یا امام و حاکم کے پاس آ کر وہ گواہی دے تو اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے بہترین گواہ قرار دیا ہے۔ ہمارے لیے مناسب یہ ہے کہ ان آثار کی وہ تاویل کی جائے جو ہم نے ذکر کی ہے تاکہ آثار میں تضاد و تخالف نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کی تردید نہ کریں۔ پس آثار اول سے پہلا معنی اور بعد والے آثار سے دوسرا معنی مراد ہوگا کہ شہادت کی ابتداء کرنے والا افضل ہے یا خود امام کو اپنی گواہی کی اطلاع دینے والا افضل ہے اور صحابہ کرام سے اس فعل کا کرنا خود ثابت ہے چنانچہ وہ امام کے پاس آئے اور انھوں نے ابتداء گواہی دی ان صحابہ (رض) میں ابو بکرہ (رض) ہیں اور جو ان کے ساتھ تھے جبکہ انھوں نے حضرت مغیرہ (رض) کے متعلق گواہی دی۔ انھوں نے اسے ضروری قرار دیا حضرت عمر (رض) نے ابتداء شہادت پر ان کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ ان کی گواہی کو سنا اگر ان کا یہ فعل قابل مذمت ہوتا تو ان کی ضرور مذمت کرتے اور اس طرح فرماتے ” من سالکم عن ہذا ؟ الا قعدتم حتی تسالوا ؟ “ جب حضرت عمر (رض) نے ان کی یہ بات سنی اور انکار نہیں فرمایا اور دیگر مجلس میں موجود اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے کسی نے بھی نکیر نہیں فرمائی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کا یہی فریضہ تھا اور جس نے ابتداء بالشہادت کی جبکہ اس سے مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تو اس کا یہ فعل قابل مدح ہے اس سلسلہ میں یہ روایات بھی وارد ہیں۔