۵۹۹۷: مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا عَفَّانَ بْنُ مُسْلِمٍ وَسَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَا : حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْکَرِیْمِ بْنُ رَشِیدٍ عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ اِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَشَہِدَ عَلَی الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ فَتَغَیَّرَ لَوْنُ عُمَرَ ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَشَہِدَ فَتَغَیَّرَ لَوْنُ عُمَرَ ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَشَہِدَ فَتَغَیَّرَ لَوْنُ عُمَرَ حَتّٰی عَرَفْنَا ذٰلِکَ فِیْہِ وَأَنْکَرَ لِذٰلِکَ .وَجَائَ آخَرُ یُحَرِّکُ بِیَدَیْہِ فَقَالَ : مَا عِنْدَک یَا سَلْخَ الْعِقَابِ ؟ وَصَاحَ أَبُو عُثْمَانَ صَیْحَۃً تُشْبِہُ بِہَا صَیْحَۃَ عُمَرَ حَتّٰی کَرَبْتُ أَنْ یُغْشٰی عَلَیَّ .قَالَ : رَأَیْتُ أَمْرًا قَبِیْحًا قَالَ : الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَمْ یُشَمِّتِ الشَّیْطَانَ بِأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ فَأَمَرَ بِأُولٰئِکَ النَّفَرِ فَجُلِدُوْا .
٥٩٩٧: ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آیا اور اس نے حضرت مغیرہ (رض) کے متعلق گواہی دی تو اس کی بات سن کر حضرت عمر (رض) کا رنگ بدل گیا پھر دوسرا آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر (رض) کا رنگ بدل گیا۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر (رض) کا رنگ بدل گیا۔ یہاں تک کہ اس کا اثر آپ کے چہرہ پر معلوم ہونے لگا آپ اس بات کو انوکھا خیال کیا اور ایک اور شخص آیا جو اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہا تھا آپ نے فرمایا اے سزا کو کھینچ کر دور کرنے والے تیرے پاس کیا خبر ہے۔ ابو عثمان راوی نے زور سے چیخ ماری جو حضرت عمر (رض) کی چیخ کے مشابہہ تھی یہاں تک کہ مجھے بیہوشی کا خطرہ ہوا۔ وہ کہنے لگا میں نے ایک بری بات دیکھی ہے حضرت عمر (رض) نے کہا الحمدللہ اللہ کا شکر ہے جس نے شیطان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر خوش ہونے کا موقع نہیں دیا۔ پھر اس گروہ کو کوڑے مارنے کا حکم دیا چنانچہ ان لوگوں کو کوڑے لگائے گئے۔