۵۹۹۸: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِیُّ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ قَالَ : شَہِدَ عَلَی الْمُغِیْرَۃِ أَرْبَعَۃٌ فَنَکَلَ زِیَادُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ فَجَلَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الثَّلَاثَۃَ وَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابَ الْاِثْنَانِ ، وَأَبَی أَبُوْبَکْرَۃَ أَنْ یَتُوْبَ فَکَانَ یَقْبَلُ شَہَادَتَہُمَا حِیْنَ تَابَا وَکَانَ أَبُوْبَکْرَۃَ لَا تُقْبَلُ شَہَادَتُہُ لِأَنَّہٗ أَبَی أَنْ یَتُوْبَ وَکَانَ مِثْلَ الصَّوْمِ مِنَ الْعِبَادَۃِ .
٥٩٩٨: ابراہیم بن میسرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ مغیرہ (رض) کے متعلق چار آدمیوں نے گواہی دی ان میں سے زیاد بن ابی سفیان نے اس بات سے انکار کیا تو حضرت عمر (رض) نے تینوں کو کوڑے لگائے اور ان سے توبہ کا مطالبہ کیا تو ان میں سے دو نے توبہ کرلی مگر ابو بکرہ نے توبہ سے انکار کیا تو جب ان دو نے توبہ کرلی تو ان کی گواہی کو قبول کرلیا جانے لگا اور ابو بکرہ کی گواہی قبول نہ کی جاتی تھی۔ کیونکہ انھوں نے تو توبہ سے انکار کیا تھا۔ (اور یہ توبہ نہ کرنا) عبادت سے باز رہنے کی طرح تھا۔