۶۰۳ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ بْنُ نَاصِحٍ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیْ حَسَّانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتْ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِکِتَابٍ، بَعْدَمَا ذَہَبَ بَصَرُہُ فَدَفَعَہٗ إِلَی ابْنِہٖ فَتَتَرْتَرَ فِیْہِ، فَدَفَعَہٗ إِلَیَّ فَقَرَأْتُہٗ، فَقَالَ لِابْنِہٖ : أَلَا ہَذْرَمَتْہُ کَمَا ہَذْرَمَہُ الْغُلَامُ الْمِصْرِیُّ؟ .فَإِذَا فِیْہِ : " بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، مِنْ امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، أَنَّہَا اُسْتُحِیْضَتْ، فَاسْتَفْتَتْ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَأَمَرَہَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّیَ " .فَقَالَ : " اللّٰہُمَّ لَا أَعْلَمُ الْقَوْلَ إِلَّا مَا قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .قَالَ قَتَادَۃُ، وَأَخْبَرَنِیْ عَزْرَۃُ، عَنْ سَعِیْدٍ أَنَّہٗ قِیْلَ لَہٗ : إِنَّ الْکُوْفَۃَ أَرْضٌ بَارِدَۃٌ، وَأَنَّہٗ یَشُقُّ عَلَیْہَا الْغُسْلُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ، فَقَالَ : لَوْ شَائَ اللّٰہُ لَابْتَلَاہَا بِمَا ہُوَ أَشَدُّ مِنْہُ .
٦٠٣: حسان سعید بن جبیر (رح) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ابن عباس (رض) کے پاس ایک خط لائی یہ اس زمانے کی بات ہے جب ان کی نگاہ جا چکی تھی انھوں نے اپنے بیٹے کو دیا تو اس کی کلام میں ڈھیلا پن تھا جس سے ان کو بات سمجھ نہ آئی تو انھوں نے خط میرے حوالہ کیا تو میں نے پڑھا تو انھوں نے اپنے بیٹے کو فرمایا تم نے اس کو اس طرح جلدی کیوں نہ پڑھا جیسا اس مصری لڑکے نے پڑھا ہے اس خط کا مضمون یہ تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من امراۃ من المسلمین انہا استحیضت فاستفتت علیا (رض) فامرھا ان تغتسل و تصلی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی تکلیف ہے اس نے علی (رض) سے مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے غسل کر کے اسے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
اس پر ابن عباس (رض) فرمانے لگے میں اس کے متعلق وہی بات جانتا ہوں جو علی (رض) نے کہی ہے یہ بات تین مرتبہ دھرائی۔
قتادہ نے کہا کہ مجھے عزرہ نے سعید سے نقل کیا کہ انھوں نے سوال کیا کہ حضرت کوفہ تو ٹھنڈا علاقہ ہے اور اس پر ہر نماز کیلئے غسل گراں ہوجائے گا تو آپ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کو اس سے زیادہ سخت بیماری میں مبتلا کردیتا۔
تخریج : عبدالرزاق ١؍٣٠٥ ابن ابی شیبہ ١؍١١٩۔