hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6064

.

الطحاوي

6064
Al Tahawi
۶۰۶۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دَاوٗدَ الْبَغْدَادِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُنَیْدُ بْنُ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، أَخْبَرَہٗ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّیْ یَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِیْنَۃِ .فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوْا ، فَظَنُّوْا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ نَحَرَ قَبْلَہٗ، أَنْ یُعِیْدَ بِذَبْحٍ آخَرَ ، وَلَا یَنْحَرُ حَتّٰی یَنْحَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا، فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ لِأَحَدٍ أَنْ یَنْحَرَ ، حَتّٰی یَنْحَرَ الْاِمَامُ ، وَاِنْ نَحَرَ قَبْلَ ذٰلِکَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ أَوْ قَبْلَہَا ، لَمْ یُجْزِہِ ذٰلِکَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَتَأَوَّلُوْا قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَنْ نَحَرَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْاِمَامِ أَجْزَأَہُ ذٰلِکَ ، وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَلَمْ یُجْزِہِ ذٰلِکَ ، وَقَالُوْا : قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ قَدْ نَزَلَتْ فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْمَعْنَی .فَذَکَرُوْا۔
٦٠٢٦: ابوالزبیر نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نحر کے دن مدینہ منورہ میں نماز ادا فرمائی تو کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کردی ان کا خیال یہ تھا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کرچکے ہیں تو آپ نے حکم فرمایا کہ جس نے آپ سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوسرا جانور بطور قربانی ذبح کرے اور کوئی شخص قربانی کا جانور اس وقت تک ذبح نہ کرے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی نہ کرلیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کوئی شخص امام کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہیں کرسکتا اگر اس سے پہلے قربانی کرلی خواہ نماز سے پہلے ہو یا بعد اس کی قربانی جائز نہ ہوگی۔ انھوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور اس آیت سے بھی استدلال کیا ہے ” یا ایہا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ (الحجرات ١) کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیش دستی مت کرو۔ دوسروں نے کہا جو آدمی امام کے نماز پڑھانے کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی درست ہے اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے اس کی قربانی جائز نہ ہوگی۔ اس آیت کا شان نزول اور ہے جیسا کہ حضرت ابن زبیر (رض) کی روایت میں وارد ہے۔ (روایت یہ ہے)
تخریج : مسلم فی المساجد ١٤‘ مسند احمد ٣؍٢٩٤‘ ٣٢٤؍٣٤٩۔
ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ امام کے نحر سے پہلے قربانی کرنے والے کی قربانی جائز نہ ہوگی۔
فریق ثانی : عید کے بعد اگر امام کی قربانی سے پہلے یا بعد قربانی کرنے والے کی قربانی درست ہے۔ اس میں کچھ قباحت نہیں البتہ عید سے پہلے قربانی درست نہیں۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔