hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6065

.

الطحاوي

6065
Al Tahawi
۶۰۶۳: مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَصْبَہَانِیُّ ، قَالَ : ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ أَبِیْ اِسْرَائِیْلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ یُوْسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَّ ابْنَ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ أَخْبَرَہٗ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَکْبًا مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ ، قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنَ زُرَارَۃَ .وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ .فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : مَا أَرَدْتَ بِذٰلِکَ اِلَّا خِلَافِی .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : مَا أَرَدْتُ خِلَافَک .فَتَمَارَیَا حَتّٰی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِی قَوْلِہِمْ ، أَنَّ حَدِیْثَ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَدْ رُوِیَ عَلَی غَیْرِ ہٰذَا اللَّفْظِ .
٦٠٦٣: ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن زبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ بنو تمیم قبیلہ کے کچھ سوار جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابوبکر (رض) کہنے لگے کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا امیر قعقاع بن معبد بن زرارہ کو بنائیں جبکہ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ اقرع بن جابس کو ان پر امیر مقرر فرمائیں حضرت ابوبکر (رض) کہنے لگے آپ نے اس بات سے میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا میں آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا دونوں کے مابین نزاع ہوا یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ اتاری ” یا ایہا الذین امنوا۔۔۔“ (الحجرات : ١) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیش دستی مت کرو۔
تخریج : بخاری فی المغازی باب ٦٨‘ تفسیر سورة ٤٩‘ باب ٢‘ نسائی فی القضاۃ باب ٦۔
روایت جابر (رض) کا جواب : روایت جابر (رض) دیگر الفاظ سے مروی ہے وہ اس طرح ہے۔