hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6066

.

الطحاوي

6066
Al Tahawi
۶۰۶۴: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُشَیْشٍ ، قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَتُوْدًا جَذَعًا .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ وَنَہَی أَنْ یَذْبَحُوْا قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّہْیَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّمَا قُصِدَ بِہٖ اِلَی النَّہْیِ عَنْ الذَّبْحِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ ، لَا قَبْلَ ذَبْحِہٖ، وَہُوَ لَا یَجُوْزُ أَنْ یَنْہَاہُمْ عَنْ الذَّبْحِ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ اِلَّا وَہُوَ یُرِیْدُ بِذٰلِکَ اِعْلَامَہُمْ اِبَاحَۃَ الذَّبْحِ لَہُمْ بَعْدَ مَا یُصَلِّی ، وَاِلَّا لَمْ یَکُنْ لِذِکْرِہٖ الصَّلَاۃَ مَعْنًی .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ غَیْرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یُوَافِقُ ہٰذَا .
٦٠٦٤: حضرت جابر (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابی (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز عید ادا کرنے سے پہلے بکری کا چھ ماہ کا بچہ ذبح کرلیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے بعد یہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں اور آپ نے نماز عید سے پہلے ذبح سے ممانعت فرمائی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت سے معلوم ہوا کہ نہی سے مقصود عید کی نماز سے پہلے ذبح کی ممانعت ہے یہ مراد نہیں کہ آپ کے ذبح سے پہلے کوئی جانور ذبح نہ کیا جائے اور نماز پڑھنے سے پہلے ممانعت ذبح کا صاف مطلب یہ ہے نماز عید سے پہلے ذبح جائز نہ ہوگا آپ کے اعلان کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے بعد ذبح کیا جائے ورنہ اس موقعہ پر نماز کے تذکرہ کا کوئی مطلب نہیں اور حضرت جابر (رض) کے علاوہ دیگر صحابہ سے بھی اس معنی کی موافقت منقول ہے۔ (روایت برائ (رض) ملاحظہ ہو)
تخریج : مسند احمد ٣؍٣٦٤۔