۶۰۸۳: فَاِذَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ فَرَّ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّ عَلَیَّ نَاقَۃً وَقَدْ غَرَبَتْ عَنِّیْ فَقَالَ اشْتَرِ سَبْعًا مِنَ الْغَنَمِ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِنَّمَا عَدَلَہَا بِسَبْعٍ مِنَ الْغَنَمِ ، مِمَّا یُجْزِئُ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ عَنْ رَجُلٍ ، وَلَمْ یَعْدِلْہَا بِعَشْرٍ مِنَ الْغَنَمِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی تَصْحِیْحِ مَا رَوَی جَابِرٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ، لَا مَا رَوَی الْمِسْوَرُ ، فَہٰذَا وَجْہُ ہٰذَا الْبَابِ مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا وَجْہُ ذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، فَاِنَّا قَدْ رَأَیْنَاہُمْ قَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ الْبَقَرَۃَ لَا تُجْزِئُ فِی الْأُضْحِیَّۃِ ، عَنْ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعَۃٍ وَہِیَ مِنَ الْبُدُنِ بِاتِّفَاقِہِمْ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ تَکُوْنَ النَّاقَۃُ مِثْلَہَا ، وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعَۃٍ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : اِنَّ النَّاقَۃَ وَاِنْ کَانَتْ بَدَنَۃً کَمَا أَنَّ الْبَقَرَۃَ بَدَنَۃٌ ، فَاِنَّ النَّاقَۃَ أَعْلَی مِنَ الْبَقَرَۃِ فِی السَّمَانَۃِ وَالرِّفْعَۃِ .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّہَا وَاِنْ کَانَتْ کَمَا ذَکَرْت ، فَاِنَّ ذٰلِکَ غَیْرُ وَاجِبٍ لَک بِہٖ عَلَیْنَا حُجَّۃٌ .أَلَا تَرَی أَنَّا قَدْ رَأَیْنَا الْبَقَرَۃَ الْوُسْطَی ، تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَۃٍ وَکَذٰلِکَ مَا ہُوَ دُوْنَہَا ، وَمَا ہُوَ أَرْفَعُ مِنْہَا .وَکَذٰلِکَ النَّاقَۃُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَۃٍ ، أَوْ عَنْ عَشْرَۃٍ ، رَفِیْعَۃً کَانَتْ أَوْ دُوْنَ ذٰلِکَ .فَلَمْ یَکُنْ السِّمَنُ وَالرِّفْعَۃُ ، مِمَّا یُمَیَّزُ بِہٖ بَعْضُ الْبَقَرِ عَنْ بَعْضٍ ، وَلَا بَعْضُ الْاِبِلِ عَنْ بَعْضٍ ، فِیْمَا تُجْزِئُ فِی الْہَدْیِ وَالْأَضَاحِیّ .بَلْ کَانَ حُکْمُ ذٰلِکَ کُلِّہِ حُکْمًا وَاحِدًا یُجْزِئُ عَنْ عَدَدٍ وَاحِدٍ .فَلَمَّا کَانَ مَا ذَکَرْنَا کَذٰلِکَ ، وَکَانَتِ الْاِبِلُ وَالْبَقَرُ بُدُنًا کُلَّہَا ، ثَبَتَ أَنَّ حُکْمَہَا حُکْمٌ وَاحِدٌ ، وَأَنَّ بَعْضَہَا لَا یُجْزِئُ أَکْثَرَ مِمَّا یُجْزِئُ عَنْہُ الْبَعْضُ الْبَاقِی ، وَاِنْ زَادَ بَعْضُہَا عَلَی بَعْضٍ فِی السِّمَنِ وَالرِّفْعَۃِ .فَلَمَّا کَانَتِ الْبَقَرَۃُ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعَۃٍ ، کَانَتْ النَّاقَۃُ أَیْضًا کَذٰلِکَ فِی النَّظَرِ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعَۃٍ ، قِیَاسًا وَنَظَرًا ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٦٠٨٣: عطاء نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے یہ سوال کیا کہ اگر مجھ پر ایک اونٹ لازم ہو اور وہ غائب ہوجائے تو کیا میں اس کے بدلے سات بکریاں خرید سکتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سات بکریاں خرید لو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں ایک اونٹ کو سات بکریوں کے برابر قرار دیا ہے جو کہ ہر ایک آدمی کی طرف سے ایک ہوجائے گی دس بکریوں کے برابر قرار نہیں دیا۔ اس سے جابر (رض) کی روایت کی درستگی ظاہر ہوگئی نہ کہ مسور کی روایت۔ آثار کو سامنے رکھ کر اس باب کا یہی حکم ہے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ گائے کی قربانی میں سات سے زیادہ شریک نہیں ہوسکتے اور گائے کا بدنہ میں سے ہونا قطعی ہے پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اونٹ جو کہ بدنہ ہے اس کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے کہ وہ سات سے زیادہ کی طرف سے جائز نہ ہو۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ گائے اگرچہ بدنہ میں شامل ہے لیکن اونٹ اس سے اعلیٰ اور موٹاپے میں زیادہ ہے۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ آپ کے اس سوال سے ہمارے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ دیکھیں درمیانی قسم کی گائے سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے اور کم درجہ کی گائے بھی سات کی طرف سے جائز ہے۔ حالانکہ وہ اس سے موٹاپے میں کم ہے اور درمیانی گائے موٹاپے میں زیادہ ہے اسی طرح اونٹنی سات کی طرف سے بالاتفاق اور دس کی طرف سے بقول تمہارے جائز ہے خواہ موٹی یا پتلی۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ موٹاپا اور قیمت کی بلندی جب گائے ایک دوسرے سے فرق ہونے کے باوجود حکم کو نہیں بدل سکتی اسی طرح اونٹوں میں بھی خواہ وہ قربانی کے ہوں یا ہدی کے ہوں سب کا حکم ایک ہی ہے کہ اتنی تعداد کے لیے کافی ہوگی جب بدنہ ہونے میں دونوں شریک ہیں تو ان کا حکم بھی ایک ہی ہے اگرچہ ان میں موٹاپے اور قیمت کی بلندی کے اعتبار سے باہمی فرق ہو تو جب گائے سات سے زائد آدمیوں کی طرف سے نہیں ہوسکتی تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اونٹنی بھی سات سے زائد کی طرف نہ ہو۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا ہے۔