hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6094

.

الطحاوي

6094
Al Tahawi
۶۰۹۲: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا أَبُو اِبْرَاھِیْمَ التَّرْجُمَانِیُّ قَالَ : ثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ ، عَنْ رُبَیْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَحَّی بِکَبْشٍ أَقْرَنَ ، ثُمَّ قَالَ اللّٰہُمَّ ہٰذَا عَنِّیْ ، وَعَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِی .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الشَّاۃَ ، لَا بَأْسَ أَنْ - یُضَحَّی بِہَا عَنِ الْجَمَاعَۃِ ، وَاِنْ کَثُرُوْا ، وَافْتَرَقَ أَہْلُ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ عَلَی فِرْقَتَیْنِ : فَقَالَتْ فِرْقَۃٌ : لَا تُجْزِئُ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ الَّذِیْنَ یُضَحَّی بِہَا عَنْہُمْ مِنْ أَہْلِ بَیْتٍ وَاحِدٍ .وَقَالَتْ فِرْقَۃٌ : اِنَّ ذٰلِکَ تُجْزِئُ ، کَانَ الْمُضَحَّی بِہَا عَنْہُمْ مِنْ أَہْلِ بَیْتٍ وَاحِدٍ ، أَوْ مِنْ أَہْلِ أَبْیَاتٍ شَتَّی ، لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَحَّی بِالْکَبْشِ الَّذِی ضَحَّی بِہٖ عَنْ جَمِیْعِ أُمَّتِہِ ، وَہُمْ أَہْلُ أَبْیَاتٍ شَتَّی ، فَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ ثَابِتًا ، لِمَنْ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَہُوَ یُجْزِئُ عَمَّنْ أَجْزَأَہٗ، بِذَبْحِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَثَبَتَ بِہٰذَا ، قَوْلُ الَّذِیْنَ قَالُوْا : یُضَحَّی بِہَا عَنْ أَہْلِ الْبَیْتِ ، وَعَنْ غَیْرِہِمْ .ثُمَّ کَانَ الْکَلَامُ بَیْنَ أَہْلِ ہٰذَا الْقَوْلِ وَبَیْنَ الْفِرْقَۃِ الَّتِیْ تُخَالِفُ ہٰؤُلَائِ جَمِیْعًا ، وَتَقُوْلُ : اِنَّ الشَّاۃَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَکْثَرَ مِنْ وَاحِدٍ ، وَتَذْہَبُ اِلٰی أَنَّ مَا کَانَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِمَّا احْتَجَّتْ بِہٖ الْفِرْقَتَانِ الْأُوْلَیَانِ لِقَوْلِہِمَا ، مَنْسُوْخٌ أَوْ مَخْصُوْصٌ .فَمَا دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَنَّ الْکَبْشَ ، لَمَّا کَانَ یُجْزِئُ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ ، لَا وَقْتَ فِیْ ذٰلِکَ وَلَا عَدَدَ ، کَانَتِ الْبَقَرَۃُ وَالْبَدَنَۃُ أَحْرَی أَنْ تَکُوْنَا کَذٰلِکَ ، وَأَنْ تَکُوْنَا تَجْزِیَانِ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ ، لَا وَقْتَ فِیْ ذٰلِکَ وَلَا عَدَدَ .ثُمَّ قَدْ رَوَیْنَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ دَلَّ عَلَی خِلَافِ ذٰلِکَ ، مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِی الْبَابِ الَّذِی قَبْلَ ہٰذَا، مِنْ نَحْرِ أَصْحَابِہٖ مَعَہُ الْجَزُوْرَ عَنْ سَبْعَۃٍ ، وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ ، وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ أَصْحَابِہٖ عَلَی التَّوْقِیفِ مِنْہُ لَہُمْ ، عَلٰی أَنَّ الْبَقَرَۃَ وَالْبَدَنَۃَ ، لَا تُجْزِئُ وَاحِدَۃٌ مِنْہُمَا عَنْ أَکْثَرَ مِمَّا ذُبِحَتْ عَنْہُ - یَوْمَئِذٍ ، وَتَوَاتَرَتْ عَنْہُمْ الرِّوَایَاتُ بِذٰلِکَ .
٦٠٩٢: عبدالرحمن بن ابی سعید خدری نے اپنے والد ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بڑے سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کی پھر یہ دعا فرمائی۔ اللہم ہذا عنی۔۔۔ اے اللہ یہ میری طرف سے اور امت کے قربانی نہ کرنے والے لوگوں کی طرف سے ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگ کہتے ہیں بکری بھی کئی لوگوں کی طرف سے بطور قربانی دی جاسکتی ہے خواہ کتنے زیادہ ہوں پھر ان کے دو گروہ ہیں۔ نمبر ١ ایک ہی گھر کے افراد ہوں تو تب ایک قربانی ان کی طرف سے کفایت کر جائے گی۔ نمبر ٢ ایک گھر کے ہوں یا کئی گھروں سے تعلق رکھتے ہوں تب بھی جائز ہے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام امت کی طرف سے قربانی کی اور وہ سب مختلف علاقوں سے متعلق ہیں۔ اگر یہ اسی طرح ثابت ہو تو وہ ان لوگوں کی طرف سے کفایت کرے گی جن کے لیے آپ کے ذبح کرنے سے کافی ہوئی۔ پس اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہوگئی جو کہتے ہیں کہ ایک گھر والوں اور ان کے علاوہ دوسروں کی طرف بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔ پھر اس بات والوں کی ان سے بات چیت ہوئی جو ایک بکری کو ایک آدمی سے زائد کی طرف سے نہیں مانتے ہیں وہ ان دو گروہوں کی روایات کو منسوخ قرار دیتے ہیں یا آپ کی خصوصیت قرار دیتے ہیں اور اس پر دلالت یہ ہے کہ جب مینڈھا ایک سے زائد افراد کی طرف سے جائز ہے جو افراد کہ غیر متعین ہیں۔ تو گائے اور اونٹ کا کثیر افراد کے لیے ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوجائے گا۔ پھر ہم نے گزشتہ سطور میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس کے خلاف روایات پائی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اونٹ و گائے سات کی طرف سے ذبح کیا اور آپ کا یہ عمل اس بات کی وضاحت کے لیے تھا کہ اونٹ اور گائے میں ان سات سے ایک فرد بھی اضافی نہیں ہوسکتا۔ جتنوں کی طرف سے ان کو ذبح کیا گیا۔ چنانچہ اس سلسلہ کی متواتر روایات نقل کی جاتی ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الاضاحی باب ٨‘ ترمذی فی الاضاحی باب ١٠؍٠٢‘ مسند احمد ٣‘ ٨؍٣٥٦۔