۶۱۴۵: حَدَّثَنَا بَحْرٌ عَنْ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوْبَ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ یَزِیْدَ ، مَوْلَی الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ ذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی نَسْخِ مَا رَوَیْنَاہُ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِنَ النَّہْیِ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ .فَاِنْ قِیْلَ : فَقَدْ رَوَیْتُمْ عَنْ عَلِیْ فِیْ ہٰذَا الْفَصْلِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ أَبَاحَ لُحُوْمَ الْأَضَاحِیّ بَعْدَمَا قَدْ کَانَ نَہٰی عَنْہَا .ثُمَّ رَوَیْتُمْ عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الَّذِی قَبْلَ ہٰذَا الْفَصْلِ ، أَنَّہٗ خَطَبَ النَّاسَ ، وَعُثْمَانُ مَحْصُوْرٌ فَقَالَ لَا تَأْکُلُوْا مِنْ لُحُوْمِ أَضَاحِیکُمْ بَعْدَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُ بِذٰلِکَ .فَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ کَانَ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ ، بَعْدَمَا کَانَ أَبَاحَہٗ، حَتّٰی تَتَّفِقَ مَعَانِیْ مَا رَوَیْتُمُوْھُ ، عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ ہٰذَا ، وَلَا یَتَضَادَّ .قِیْلَ لَہٗ : مَا فِیْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْت ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ نَہٰی عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ ، لِشِدَّۃٍ کَانَ النَّاسُ فِیْہَا ثُمَّ ارْتَفَعَتْ تِلْکَ الشِّدَّۃُ ، فَأَبَاحَ لَہُمْ ذٰلِکَ ، ثُمَّ عَادَ ذٰلِکَ ، فِیْ وَقْتِ مَا خَطَبَ عَلِیٌّ النَّاسَ ، فَأَمَرَہُمْ بِمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہُمْ بِہٖ فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا مِنْ ہٰذَا
٦١٤٥: حارث بن یعقوب نے یزید بن ابی یزید مولا انصار سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کہ ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت منسوخ ہوچکی۔ تم نے علی (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے گوشت کو ممانعت کے بعد حلال قرار دیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ نے منع تو کیا تھا اس کے بعد کہ اس کو جائز قرار دیا تاکہ روایات کے معانی درست ہو سکیں اور ان میں تضاد نہ ہو۔ ان کو جواب میں کہے کہ جو کچھ آپ نے ذکر کیا اس میں آپ کے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں اس لیے ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے اس لیے منع کیا ہو کہ لوگوں پر تنگدستی ہے پھر وہ تنگدستی ختم ہوگئی تو ان کے لیے مباح کردیا پھر دوبارہ لوٹ آئی جس وقت علی المرتضیٰ (رض) نے خطبہ دیا تو انھوں نے لوگوں کو وہی بات فرمائی۔ جس کا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے حالات میں حکم دیا تھا اور اس کی دلیل ابن مرزوق کی یہ روایت ہے۔