hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6148

.

الطحاوي

6148
Al Tahawi
۶۱۴۶: أَنَّ ابْنَ مَرْزُوْقٍ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا ، أَبُوْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، فَقُلْتُ :یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ، أَحَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُؤْکَلَ لُحُوْمُ الْأَضَاحِیّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ ؟ .فَقَالَتْ اِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ فِیْ عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِیْہٖ، فَأَرَادَ أَنْ یُطْعِمَ الْغَنِیُّ الْفَقِیْرَ .قَالَتْ وَلَقَدْ کُنَّا نَرْفَعُ الْکُرَاعَ ، خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَدَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ ذٰلِکَ النَّہْیَ ، اِنَّمَا کَانَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لِلْعَارِضِ الْمَذْکُوْرِ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .فَلَمَّا ارْتَفَعَ ذٰلِکَ الْعَارِضُ أَبَاحَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا قَدْ کَانَ حَظَرَہُ عَلَیْہِمْ ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ ، الَّتِیْ فِی الْفَصْلِ الَّذِی قَبْلَ ہٰذَا .فَلِذٰلِکَ مَا فَعَلَہٗ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَمَرَ بِہٖ النَّاسَ بَعْدَ عِلْمِہٖ، بِاِبَاحَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .مَا قَدْ نَہَاہُمْ ہُوَ عَنْہُ، اِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ مِنْہُ عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ لِضِیقٍ کَانُوْا فِیْہٖ، مِثْلُ مَا کَانُوْا فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِی الْوَقْتِ الَّذِیْ نَہَاہُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ .فَأَمَرَہُمْ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ أَیَّامِہِمْ ، بِمِثْلِ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِیْ مِثْلِہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا کَانَ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ مِنْ أَجْلِ دَافَّۃٍ دَفَّتْ عَلَیْہِمْ .
٦١٤٦: عبدالرحمن بن عابس اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں گیا اور میں نے یہ پوچھا اے امّ المؤمنین کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کا گوشت تین دن سے زائد کھانے کو حرام قرار دیا ہے تو وہ کہنے لگیں کہ بھوک والے سال ایسا کیا تھا آپ کا مقصد یہ تھا کہ غنی فقیر کو کھلائے وہ کہنے لگیں ہم پندرہ پندرہ راتوں تک پائے کو اٹھائے پھرتی تھیں۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : اس حدیث سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ ممانعت اس روایت پس مذکور عارضہ کی وجہ سے تھی جب عارضہ ختم ہوگیا تو آپ نے اس کا جائز قرار دیا اور یہی وہ چیز ہے جس کو حضرت علی (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں رائج کرنے کا حکم دیا اور انھوں نے لوگوں کو اس بات کا حکم دیا اس کے باوجود کہ ممانعت کے بعد اس کی اباحت کو وہ جانتے تھے اور یہ بات ان کے متعلق ہمارے نزدیک ہے (واللہ اعلم) کیونکہ اس وقت اسی طرح تنگی تھی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھی جب کہ آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو علی (رض) کا حکم ان دنوں میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی طرح تھا۔ حضرت عائشہ (رض) سے بھی ایسی روایت مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خانہ بدوشوں کی آمد کی وجہ سے منع کیا تھا۔