۶۳۳۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَلَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَبِیْ مُوْسَی وَمُعَاذٍ ، حِیْنَ سَأَلَا عَنِ الْبِتْعِ اشْرَبَا وَلَا تَسْکَرَا وَلَا تَشْرَبَا مُسْکِرًا کَانَ ذٰلِکَ دَلِیْلًا أَنَّ حُکْمَ الْمِقْدَارِ الَّذِیْ یُسْکِرُ مِنْ ذٰلِکَ الشَّرَابِ ، خِلَافُ حُکْمِ مَا لَا یُسْکِرُ مِنْہُ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا ذَکَرَہُ أَبُوْ مُوْسٰی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِمَّا ذَکَرْنَا عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ مِنْ قَوْلِہٖ : کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ اِنَّمَا ہُوَ عَلَی الْمِقْدَارِ الَّذِیْ یُسْکِرُ ، لَا عَلَی الْعَیْنِ الَّتِیْ کَثِیْرُہَا یُسْکِرُ .وَقَدْ رَوَیْنَا حَدِیْثَ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، فِیْ جَوَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلَّذِی سَأَلَہٗ عَنِ الْبِتْعِ بِقَوْلِہٖ کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ ، فَہُوَ حَرَامٌ فَاِنْ جَعَلْنَا ذٰلِکَ عَلَی قَلِیْلِ الشَّرَابِ ، الَّذِیْ یُسْکِرُ کَثِیْرُہٗ، ضَادَّ جَوَابَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ وَأَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ .وَاِنْ جَعَلْنَاہُ عَلَی تَحْرِیْمِ السُّکْرِ خَاصَّۃً ، لَا عَلَی تَحْرِیْمِ الشَّرَابِ ، وَافَقَ حَدِیْثَ أَبِیْ مُوْسَی .وَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا حَمْلُ الْآثَارِ عَلَی الْوَجْہِ الَّذِی لَا یَتَضَادُّ اِذَا حُمِلَتْ عَلَیْہِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ،
٦٣٣٦: فضیل بن مرزوق نے ابو اسحاق سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو موسیٰ و معاذ (رض) کے بتع وغیرہ کے متعلق استفسار کے جواب میں فرمایا تم مشروبات کا استعمال کرو اور نشہ آور چیز مت استعمال کرو۔ تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ایسی مقدار جو نشہ لائے اس کا حکم نشہ نہ لانے والی مقدار سے مختلف ہے۔ پس اس سے دلالت میسر آگئی کہ فصل اول میں ابو موسیٰ (رض) کی روایت ” کل مسکر حرام “ سے وہ مقدار مراد ہے جو نشہ پیدا کر دے وہ معینہ چیز مراد نہیں کہ جس کی کثیر مقدار نشہ لائے (کہ وہ مکمل طور پر حرمت میں شامل ہو) ہم نے ابو سلمہ کی روایت حضرت عائشہ (رض) سے اس آدمی کے جواب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” کل شراب اسکر فہو حرام “ ہر مشروب جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔ اگر بالفرض اس سے اس مشروب کی قلیل مقدار لیں کہ جس کی زیادہ مقدار نشہ آور بن جاتی ہے تو آپ کا جواب ابو موسیٰ والی روایت کے متضاد بن جاتا ہے اور اگر اس سے خاص نشہ کی حرمت مراد لیں مشروب کی حرمت مراد نہ لیں تو اس صورت میں روایت ابو موسیٰ (رض) کے موافق بن جاتی ہے۔ ہمارے لیے سب سے بہتر راہ یہی ہے آثار کو ایسے معانی پر محمول کریں کہ جن سے باہمی تضاد پیدا نہ ہو اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی یہ مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔