hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6346

.

الطحاوي

6346
Al Tahawi
۶۳۴۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ اِنِّیْ وَجَدْتُ مَعَ فُلَانٍ رِیحَ شَرَابٍ ، فَزَعَمَ أَنَّہٗ شَرَابُ الطِّلَائِ ، أَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَاِنْ کَانَ یُسْکِرُ ، جَلَدْتُہٗ فَجَلَدَہُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا .قَالَ : فَہٰذَا عُمَرُ قَدْ حَدَّ فِی الشَّرَابِ الَّذِیْ یُسْکِرُ ، فَہٰذَا یُخَالِفُ لِمَا رَوَیْتُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ وَغَیْرِہِ عَنْہُ .قِیْلَ لَہٗ : مَا ہٰذَا یُخَالِفُ لِذٰلِکَ ، لِأَنَّ عُمَرَ قَالَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ ، فَاِنْ کَانَ یُسْکِرُ جَلَدْتُہٗ فَقَدْ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِذٰلِکَ : الْمِقْدَارَ الَّذِی شَرِبَ ، أَیْ : فَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ الْمِقْدَارُ یُسْکِرُ ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّہٗ قَدْ سَکِرَ ، وَوَجَبَ عَلَیْہِ الْحَدُّ .وَہٰذَا أَوْلَی مَا حُمِلَ عَلَیْہِ تَأْوِیْلُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، حَتّٰی لَا یُضَادَّ مَا سِوَاہُ مِنَ الْأَحَادِیْثِ الَّتِی قَدْ رَوَیْتُ عَنْہُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَیْضًا فِیْ ہٰذَا ،
٦٣٤٤: سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا مجھے فلاں سے شراب کی بو محسوس ہوئی ہے اور اس کے خیال میں وہ طلاء کا مشروب ہے میں اس سے دریافت کرتا ہوں کہ اس نے جو پیا ہے اگر وہ نشہ لاتا ہے تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو اسی کوڑے مارے۔ لیجئے حضرت عمر (رض) نشہ والے مشروب پر اسی کوڑوں کی سزا دی۔ یہ آپ کی مروی روایت میمون کے خلاف ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس کے خلاف نہیں کیونکہ حضرت عمر (رض) نے اس روایت میں یہ فرمایا ہے کہ میں اس سے پوچھتا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے۔ اگر وہ نشہ دیتا ہے تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا اس میں یہ احتمال ہے کہ آپ کی مراد ان سے اس مقدار کو دریافت کرنا ہو جو انھوں نے پی ہے کہ اگر میں دیکھوں گا کہ یہ اتنی مقدار ہے جو نشہ لاتی ہے تو میں یقین سے معلوم کرلوں گا کہ وہ نشہ میں مبتلا ہوئے اور اس پر حد واجب ہوگئی۔ یہ تاویل اس تاویل سے بہت بہتر ہے جس پر آپ نے محمول کیا ہے تاکہ ان احادیث میں تضاد لازم نہ آئے جو خود ان سے مروی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی اس سلسلہ میں مروی ہے۔