hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6347

.

الطحاوي

6347
Al Tahawi
۶۳۴۵: مَا حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسَی ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ سُمَی ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ عَلٰی أَخِیْہِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَہُ طَعَامًا ، فَلْیَأْکُلْ مِنْ طَعَامِہٖ، وَلَا یَسْأَلْ عَنْہُ، فَاِنْ أَسْقَاہُ شَرَابًا فَلْیَشْرَبْ مِنْہٗ، وَلَا یَسْأَلْ عَنْہُ، فَاِنْ خَشِیَ مِنْہٗ، فَلْیَکْسِرْہُ بِشَیْئٍ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِبَاحَۃُ شُرْبِ النَّبِیذِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : اِنَّمَا أَبَاحَہُ بَعْدَ کَسْرِہِ بِالْمَائِ ، وَذَہَابِ شِدَّتِہٖ۔قِیْلَ لَہٗ : ہٰذَا کَلَامٌ فَاسِدٌ ، لِأَنَّہٗ لَوْ کَانَ فِیْ حَالِ شِدَّتِہِ حَرَامًا ، لَکَانَ لَا یَحِلُّ ، وَاِنْ ذَہَبَتْ شِدَّتُہُ بِصَبِّ الْمَائِ عَلَیْہِ .أَلَا تَرَی أَنَّ خَمْرًا لَوْ صُبَّ فِیْہَا مَائٌ ، حَتّٰی غَلَبَ الْمَائُ عَلَیْہَا ، أَنَّ ذٰلِکَ حَرَامٌ .فَلَمَّا کَانَ أُبِیْحَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ الشَّرَابُ الشَّدِیدُ ، اِذَا کُسِرَ بِالْمَائِ ، ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ قَبْلَ أَنْ یُکْسَرَ بِالْمَائِ غَیْرُ حَرَامٍ .فَثَبَتَ بِمَا رَوَیْنَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، اِبَاحَۃُ مَا لَا یُسْکِرُ ، مِنَ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٦٣٤٥: ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو اسے کھا لینا چاہیے اور اس سے مت پوچھو ! پس اگر وہ اس کو کوئی مشروب پلائے تو اسے پی لینا چاہیے اور اس کے بارے کرید مت کرے اگر اس کو اس مشروب سے خدشہ محسوس ہو تو کسی چیز کو ملا کر اس کو ہلکا کرلے۔ یہ غلط بات ہے اگر وہ سختی و گاڑھے پن کے وقت حرام تھی تو پانی ڈال کر شدت کا ازالہ اس کو حلال نہیں کرسکتا۔ ذرا غور فرمائیں : اگر شراب میں پانی ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس پر غالب آگیا ہو تو وہ پھر بھی حرام ہے۔ پس جب شدید مشروب کو اس روایت میں مباح قرار دیا گیا جب کہ پانی سے اسے توڑ دیا جائے۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ توڑنے سے پہلے بھی وہ حرام نہ تھی۔ پس ان روایات سے غیر نشہ آور مشروبات جیسے سخت نبیذ وغیرہ کا استعمال مباح ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔