۶۳۷۶: حَدَّثَنَا عَلِیٌّ ، قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبُو قَزَعَۃَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَۃَ وَحَسَنًا أَخْبَرَاہُ أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ أَخْبَرَہُمَا أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا أَتَوْا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، جَعَلَنَا اللّٰہُ فِدَاکَ، مَا یَصِحُّ لَنَا مِنَ الْأَشْرِبَۃِ ؟ قَالَ : لَا تَشْرَبُوْا فِی النَّقِیرِ قَالُوْا : یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، جَعَلَنَا اللّٰہُ فِدَاکَ، لَا نَدْرِی مَا النَّقِیرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، الْجِذْعُ ، یُنْقَرُ وَسَطُہٗ، وَلَا فِی الدُّبَّائِ ، وَلَا فِی الْحَنْتَمَۃِ .
٦٣٧٦: ابو نضرہ اور حسن دونوں نے بتلایا کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے خبر دی ہے کہ وفد عبدالقیس جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو انھوں نے کہا اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ پر قربان ہوں ہمارے لیے کون سے مشروب مناسب ہیں ؟ فرمایا نقیر کے اندر مت مشروب بناؤ۔ انھوں نے کہا اے نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ پر قربان جائیں ہم نہیں جانتے کہ نقیر کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کھجور کے تنے کو درمیان سے کھود دیا جائے اسی کو نقیر کہتے ہیں اور فرمایا کدو کے برتنوں میں مت پیو اور سبز گھڑوں میں بھی مت پیو۔
تخریج : مسلم فی الایمان روایت ٢٨۔