hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6428

.

الطحاوي

6428
Al Tahawi
۶۴۲۶: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْھَاعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ أَحْفُوْا الشَّوَارِبَ ، وَأَعْفُوْا اللِّحَی .فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَمَرَ بِاِحْفَائِ الشَّوَارِبِ ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ الْاِحْفَائُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا ، فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ .وَفِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ، جُزُّوْا الشَّوَارِبَ فَذَاکَ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ جَزًّا ، مَعَہُ الْاِحْفَائُ ، وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ عَلٰی مَا دُوْنَ ذٰلِکَ .فَقَدْ ثَبَتَ مُعَارَضَۃُ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ ، بِحَدِیْثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَعَمَّارٍ ، وَعَائِشَۃَ ، الَّذِیْ ذٰکَرْنَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ الْمُغِیْرَۃِ ، فَلَیْسَ فِیْہِ دَلِیْلٌ عَلٰی شَیْئٍ ، لِأَنَّہٗ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذٰلِکَ ، وَلَمْ یَکُنْ بِحَضْرَتِہِ مِقْرَاضٌ ، یَقْدِرُ عَلَی اِحْفَائِ الشَّارِبِ .وَیَحْتَمِلُ أَیْضًا حَدِیْثُ عَمَّارٍ وَعَائِشَۃَ ، وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ، فِیْ ذٰلِکَ مَعْنًی آخَرَ ، یَحْتَمِلُ أَنْ تَکُوْنَ الْفِطْرَۃُ ، ہِیَ الَّتِیْ لَا بُدَّ مِنْہَا ، وَہِیَ قَصُّ الشَّارِبِ ، وَمَا سِوٰی ذٰلِکَ فَضْلٌ حَسَنٌ .فَثَبَتَتِ الْآثَارُ کُلُّہَا الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، وَلَا تَضَادُّ ، وَیَجِبُ بِثُبُوْتِہَا أَنَّ الْاِحْفَائَ أَفْضَلُ مِنَ الْقَصِّ .وَہٰذَا مَعْنَیْ ہٰذَا الْبَابِ ، مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، فَاِنَّا رَأَیْنَا الْحَلْقَ قَدْ أُمِرَ بِہٖ فِی الْاِحْرَامِ ، وَرُخِّصَ فِی التَّقْصِیرِ .فَکَانَ الْحَلْقُ أَفْضَلَ مِنْ التَّقْصِیرِ ، وَکَانَ التَّقْصِیرُ ، مَنْ شَائَ فَعَلَہٗ، وَمَنْ شَائَ زَادَ عَلَیْہٖ، اِلَّا أَنَّہٗ یَکُوْنُ بِزِیَادَتِہِ عَلَیْہِ أَعْظَمَ أَجْرًا مِمَّنْ قَصَّ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ حُکْمُ الشَّارِبِ قَصُّہُ حَسَنٌ ، وَاِحْفَاؤُہُ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ .وَہٰذَا مَذْہَبُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ ،
٦٤٢٦: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مونچھوں کو منڈواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مونچھوں کو مونڈنے کا حکم دیا پس اس سے مونڈنا ثابت ہوگیا جیسا کہ روایت ابن عمر (رض) میں ہے اور روایت ابن عباس (رض) اور ابوہریرہ (رض) میں جزوا کا لفظ ہے اس میں دو احتمال ہیں۔ کاٹنا بمع مونڈنا۔ ! ممکن ہے کہ اس کے علاوہ صرف کاٹنا مراد ہو۔ اب روایت ابن عمر (رض) روایت ابوہریرہ ‘ عمار ‘ عائشہ (رض) کے بھی معارض ہے جن کا ہم نے اس باب میں ذکر کیا ہے۔ باقی روایت مغیرہ (رض) میں کسی بات کی بھی دلیل نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیا ہو اور اس وقت قینچی موجود نہ ہو کہ جس سے مونچھوں کو مونڈا جاسکتا ہو اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ روایت حضرت عمار اور عائشہ اور ابوہریرہ (رض) دوسرا معنی رکھتی ہوں اور فطرت سے مراد وہ ہو جس کے بغیر چارہ کار نہیں اور وہ مونچھوں کا کاٹنا ہے اور اس کے علاوہ بہتر اور خوب ہے اب تمام آثار جو اس روایت میں ذکر کئے گئے ان میں تضاد نہ رہا اور ان کے ثابت ہونے سے یہ لازم آیا کہ مونڈنا کاٹنے سے افضل ہے آثار کو سامنے رکھ کر اس باب کا یہی مطلب ہے۔ ہم نے غور کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ احرام میں حلق کا حکم ہے اور قصر کی رخصت ہے پس حلق قصر سے افضل ہوا پس قصر جو چاہے کرلے۔ البتہ قصر پر اضافہ کرنے میں اجر بہت ہی بڑا ہے پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ مونچھوں کا بھی حکم ہو اور اس کا کاٹنا اچھا ہو اور منڈوانا احسن و افضل ہو اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔ متقدمین کی ایک جماعت سے بھی یہی مروی ہے۔
تخریج : بخاری فی اللباس باب ٦٤‘ مسلم فی الطہارۃ ٥٢؍٥٣‘ ٥٤؍٥٥‘ ترمذی فی الادب ١٨٦‘۔
صحابہ کرام (رض) کے عمل سے اس کی تائید :