hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6436

.

الطحاوي

6436
Al Tahawi
۶۴۳۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ سَالِمٍ قَالَ : مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَشَدَّ اِحْفَائً لِشَارِبِہٖ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، کَانَ یُحْفِیْہٖ، حَتّٰی اِنَّ الْجِلْدَ لَیُرَی .فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ کَانُوْا یُحْفُوْنَ شَوَارِبَہُمْ ، وَفِیْہِمْ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ، وَہُوَ مِمَّنْ رَوَیْنَا عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ مِنَ الْفِطْرَۃِ قَصُّ الشَّارِبِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ قَصَّ الشَّارِبِ مِنَ الْفِطْرَۃِ ، وَہُوَ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْہُ، وَأَنَّ مَا بَعْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِحْفَائِ ، ہُوَ أَفْضَلُ ، وَفِیْہِ مِنْ اِصَابَۃِ الْخَیْرِ ، مَا لَیْسَ فِی الْقَصِّ .
٦٤٣٤: عقبہ بن سالم کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے بڑھ کر کسی کو مونچھیں منڈوانے والا نہیں دیکھا وہ اس قدر منڈواتے کہ چمڑا نظر آجاتا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جو اپنی مونچھوں کو مونڈتے تھے ان میں ابوہریرہ (رض) بھی ہیں جنہوں نے قص الشارب کی روایت کی ہے پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ مونچھوں کا کاٹنا فطرت سے ہے یعنی اس کے بغیر چارہ کار نہیں اور اس سے زائد مونڈنے والا عمل افضل ہے۔ (بخاری فی الاستیذان باب ٥١‘ مسلم فی الطیانۃ : ٤٩) اور اس سے وہ بھلائی مل جاتی ہے جو مونچھیں کاٹنے میں نہیں ملتی۔
حاصل : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جو اپنی مونچھوں کو مونڈتے تھے ان میں ابوہریرہ (رض) بھی ہیں جنہوں نے قص الشارب کی روایت کی ہے پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ مونچھوں کا کاٹنا فطرت سے ہے یعنی اس کے بغیر چارہ کار نہیں اور اس سے زائد مونڈنے والا عمل افضل ہے۔
تخریج : بخاری فی الاستیذان باب ٥١‘ واللباس باب ٦٣‘ مسلم فی الطہارۃ روایت ٤٩‘ مسند احمد ٢؍١١٨۔
اور اس سے وہ بھلائی مل جاتی ہے جو مونچھیں کاٹنے میں نہیں ملتی۔