۶۴۸۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ أَنَّ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَہٗ ، عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِہٖ، اِلَّا أَنَّہٗ قَالَ : بَصَلٌ ، أَوْ کُرَّاثٌ وَزَادَ فِیْ آخِرِہِ وَلَیْسَ بِمُحَرَّمٍ .فَقَدْ أَبَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذِہِ الْاِثَارِ لِلنَّاسِ ، أَکْلَ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ ، وَأَنَّ - ذٰلِکَ غَیْرُ مُحَرَّمٍ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : ہٰذَا الَّذِیْ ذَکَرْتَ، اِنَّمَا ہُوَ عَلٰی مَا کَانَ مِنْہُمَا قَدْ طُبِخَ .فَأَمَّا مَا کَانَ غَیْرَ مَطْبُوْخٍ ، فَہُوَ دَاخِلٌ فِی النَّہْیِ الَّذِیْ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْمَا ذَکَرْنَا عَنْہُ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ اِنَّمَا کَرِہَہُ لِرِیحِہِ وَقَدْ أَبَاحَ أَصْحَابُہُ أَکْلَہٗ۔فَمَا کَانَتْ رِیحُہُ فِیْہِ قَائِمَۃً بَعْدَ الطَّبْخِ ، کَانَ عَلٰی حُکْمِہِ قَبْلَ الطَّبْخِ ، اِذْ کَانَ اِنَّمَا کَرِہَ أَکْلَہٗ فِیْہِمَا جَمِیْعًا ، مِنْ أَجْلِ رِیحِہٖ۔ فَدَلَّ اِبَاحَتُہُ أَکْلَہٗ لَہُمْ بَعْدَ الطَّبْخِ وَرِیحُہُ مَوْجُوْدَۃٌ عَلٰی أَنَّ أَکْلَہُمْ اِیَّاہُ قَبْلَ الطَّبْخِ ، مُبَاحٌ لَہُمْ أَیْضًا .
٦٤٨٤: سفیان بن عبداللہ نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ انھوں نے بصل یاکراث کا نام بھی ذکر کیا اور آخر میں ” لیس بمحرم “ کے لفظ بھی فرمائے ہیں۔ ان آثار میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لوگوں کے لیے مباح قرار دیا اور یہ حرام نہیں ہے۔ ان روایات میں جو اباحت کے لیے پیش کی گئیں ان میں تو پکے ہوئے پیاز وغیرہ کا ذکر ہے جو پکا ا ہوا نہ ہو وہ تو آثار اول کی نہی میں اسی طرح شامل ہے۔ ان آثار میں تو یہ مذکور ہے کہ اس کی کراہت بدبو کی وجہ سے ہے اور صحابہ کرام (رض) کے لیے اس کا کھانا مباح تھا جس میں بو ابھی پکانے کے باوجود باقی ہو وہ کچے کے حکم میں ہے۔ اس لیے کہ اس کا دونوں صورتوں میں مکروہ ہونا بو کی وجہ سے ہے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اس کے پکانے کے بعد اس کے کھانے کی اباحت ہے جبکہ اس میں مہک باقی ہے تو اس کا پکانے سے پہلے کھانا بھی ان کے لیے مباح ہے۔