۶۴۸۵: وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَطَائُ بْنُ أَبِیْ رَبَاحٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ ثُوْمًا أَوْ بَصَلًا ، فَلْیَعْتَزِلْنَا ، أَوْ یَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا فَیَقْعُدْ فِیْ بَیْتِہٖ وَأَنَّہٗ أُتِیَ بِقِدْرٍ ، أَوْ بِبَدْرٍ فِیْہِ خَضْرَاوَاتٌ مِنْ بُقُوْلٍ ، فَوَجَدَ لَہَا رِیحًا فَسَأَلَ عَنْہَا فَأُخْبِرَ بِمَا فِیْہَا مِنَ الْبُقُوْلِ فَقَالَ : قَرِّبُوْہَا اِلٰی بَعْضِ أَصْحَابِہٖ کَانَ مَعَہٗ، فَلَمَّا رَآہٗ کَرِہَ أَکْلَہٗ قَالَ : کُلْ فَاِنِّیْ أُنَاجِی مَنْ لَا تُنَاجِی .
٦٤٨٥: عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے لہسن یا پیاز استعمال کیا۔ وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا وہ ہماری مسجد سے الگ رہے وہ اپنے گھر میں بیٹھے آپ کے پاس ایک تھال یا ہنڈیا لائی گئی جس میں سبزیات تھیں آپ نے اس میں بو پائی آپ نے ان سبزیات کے متعلق پوچھا جو اس میں موجود تھیں۔ تو راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ والوں کے سامنے رکھ دیا جب انھوں نے دیکھا کہ آپ نے ان کو استعمال نہیں کیا تو انھوں نے بھی کھانا پسند نہ کیا تو فرمایا۔ تم کھاؤ مجھے اس سے بات کرنا ہوتی ہے جس سے تمہیں سرگوشی کی ضرورت نہیں۔ یعنی (فرشتہ)
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٦٠‘ والاطعمہ باب ١٩‘ والاعتصام باب ٢٤‘ ابو داؤد فی الاطعمہ باب ٤٠‘ ترمذی فی الاطعمہ باب ١٣‘ نسائی فی المساجد باب ١٦‘ مسند احمد ٣‘ ٦٥؍٨٥‘ ٣٨٧؍٣٨٧‘ ٤؍١٩٤۔