hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6490

.

الطحاوي

6490
Al Tahawi
۶۴۸۸: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : ثَنَا الْجُرَیْرِیُّ ، عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : أَحْسَبُہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ عَلٰی حَائِطٍ ، فَلْیُنَادِ صَاحِبَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَاِنْ أَجَابَہٗ، وَاِلَّا فَلْیَأْکُلْ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُفْسِدَ ، وَاِذَا أَتَیْ عَلَی غَنَمٍ ، فَلْیُنَادِ صَاحِبَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَاِنْ أَجَابَہٗ، وَاِلَّا فَلْیَشْرَبْ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُفْسِدَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ: فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا فَجَعَلُوْا لِمَنْ مَرَّ بِالْحَائِطِ ، أَنْ یُنَادِیَ صَاحِبَہُ ثَلَاثًا ، فَاِنْ أَجَابَہٗ، وَاِلَّا فَأَکَلَ، وَکَذٰلِکَ فِی الْغَنَمِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِی أَنْ یَأْکُلَ مِنْ غَیْرِ ضَرُوْرَۃٍ ، فَاِنْ کَانَتْ ضَرُوْرَۃٌ فَالْأَکْلُ لَہٗ مِنْ ذٰلِکَ وَالشُّرْبُ لَہٗ مُبَاحٌ .قَالُوْا : وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ الْاِبَاحَۃَ الْمَذْکُوْرَۃَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، ہِیَ عَلَی الضَّرُوْرَۃِ .
٦٤٨٨: ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے۔ ابو نضرہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا گزر باغ کے پاس سے ہو تو اس کے مالک کو تین مرتبہ آواز دے اگر وہ جواب دے تو مناسب ہے ورنہ بگاڑنے کے بغیر کھائے اور جب بکریوں کے پاس سے گزرے تو اس کے مالک کو تین مرتبہ آواز دے اگر وہ جواب دے تو مناسب ہے ورنہ خرابی پیدا کرنے کے بغیر پی لے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں انھوں نے اس روایت کو اس آدمی سے متعلق قرار دیا جس کا گزر کسی باغ سے ہو تو وہ اسے تین مرتبہ آواز دے پھر اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ورنہ اس سے پھل استعمال کرے اور بکریوں میں بھی اسی طرح۔ دوسروں نے کہا بلاضرورت استعمال کرنا جائز نہیں اگر ضرورت پیش آجائے تو اسے کھانا اور پینا دونوں مباح ہیں۔ اس روایت کے علاوہ حضرت ابو سعید خدری (رض) کی روایت دلالت کرتی ہے کہ اس روایت میں اباحت مذکورہ کا تعلق ضرورت سے ہے۔
بعض لوگوں کا قول یہ ہے کہ اگر کسی باغ کے پاس سے گزرے اس کو تین مرتبہ آواز سے جواب آئے تو ٹھیک ورنہ اس باغ کے پھل کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
فریق ثانی : اگر کسی کی چیز استعمال کی نوبت مجبوراً پہنچے تو استعمال کرے ورنہ بلاضرورت شدیدہ استعمال نہ کرے اگر اس وقت بھی احتراز کرے تو بہتر ہے۔