۶۴۸۹: فَذَکَرُوْا مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا مُخَوَّلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عِصْمَۃَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُوْلُ : اِذَا أَرْمَلَ الْقَوْمُ فَصَبَّحُوْا الْاِبِلَ ، فَلْیُنَادُوْا الرَّاعِیَ ثَلَاثًا ، فَاِنْ لَمْ یَجِدُوْا الرَّاعِیَ ، وَوَجَدُوْا الْاِبِلَ ، فَلْیَتَصَبَّحُوْا لَبَنَ الرَّاوِیَۃِ ، اِنَّ کَانَ فِی الْاِبِلِ رَاوِیَۃٌ ، وَلَا حَقَّ لَہُمْ فِیْ بَقِیَّتِہَا ، فَاِنْ جَائَ الرَّاعِی ، فَلْیُمْسِکْہُ رَجُلَانِ وَلَا یُقَاتِلُوْھُ ، وَیَشْرَبُوْا ، فَاِنْ کَانَ مَعَہُمْ دَرَاہِمُ ، فَہُوَ حَرَامٌ عَلَیْہِمْ اِلَّا بِاِذْنِ أَہْلِہَا . فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ مَا أُبِیْحَ مِنْ ذٰلِکَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ، اِنَّمَا ہُوَ الضَّرُوْرَۃُ .وَقَدْ جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مَا یَدُلُّ عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَی أَیْضًا .
٦٤٨٩: عبداللہ بن عصمہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدری (رض) کو فرماتے سنا کہ جس وقت لوگوں کے پاس زاد راہ ختم ہوجائے اور ان کا گزر اونٹوں والوں کے پاس سے ہو تو انھیں چاہیے کہ چرواہے کو تین مرتبہ آواز دیں اگر چرواہا نہ ملے اور اونٹ مل جائے تو پانی لینے والی اونٹنی کا دودھ دوھ لیں اگر اونٹوں میں پانی لانے والی اونٹنی ہو بقیہ اونٹوں کا ان پر کوئی حق نہیں اگر اس دوران میں چرواہا آجائے تو اس کو دو آدمی روک لیں اور اس سے لڑائی نہ کریں اور دودھ پی لیں اگر ان کے پاس دراہم موجود ہوں تو مالکوں کی اجازت کے بغیر وہ دودھ ان پر حرام ہے۔ اس روایت میں دلیل ہے کہ حدیث اول میں جو چیز ان کے لیے مباح کی گئی وہ ضرورت کی بنیاد پر ہے اور یہی معنی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دیگر احادیث میں مروی ہے روایت یہ ہے :