hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6518

.

الطحاوي

6518
Al Tahawi
۶۵۱۶: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ لِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ : مَا الْاِسْتَبْرَقُ ؟ .قُلْتُ : مَا غَلُظَ مِنْ الدِّیْبَاجِ ، وَخَشُنَ مِنْہُ .فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ : رَأَیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلٰی رَجُلٍ حُلَّۃً مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ، فَأَتَی بِہَا فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اشْتَرِ ہٰذِہٖ، فَالْبَسْہَا لِوَفْدِ النَّاسِ ، اِذَا قَدِمَ عَلَیْکَ .فَقَالَ : اِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیْرَ ، مَنْ لَا خَلَاقَ لَہٗ قَالَ : فَمَضَی لِذٰلِکَ مَا مَضَی .ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ اِلَیْہِ بِحُلَّۃٍ فَأَتَاہُ بِہَا فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، بَعَثْتَ اِلَیَّ بِہٰذِہٖ، وَقَدْ قُلْتَ فِیْ مِثْلِ ہٰذَا مَا قُلْتَ ؟ .فَقَالَ اِنَّمَا بَعَثْتُ اِلَیْکَ بِہَا لِتُصِیْبَ بِہَا مَالًا .وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَکْرَہُ الْعَلَمَ فِی الثَّوْبِ مِنْ أَجْلِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٦٥١٦: ابو اسحق کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے کہا کہ استبرق کیا ہے میں نے کہا موٹا اور کھردرا ریشم وہ کہنے لگے میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو فرماتے سنا کہ عمر (رض) نے ایک آدمی پر استبرق کا جوڑا دیکھا وہ اس کو لے کر آئے اور کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو خرید لیں تاکہ وفود کے لیے آپ اس کو پہنیں جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ریشم وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات آئی گئی ہوگئی پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کی طرف ایک ریشمی جوڑا بھیجا حضرت عمر (رض) اس کو لے کر آئے اور کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے یہ میری طرف بھیجا ہے حالانکہ آپ اس جیسے جوڑے کے بارے میں وہ فرما چکے جو آپ فرما چکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے یہ جوڑا تمہاری طرف اس لیے بھیجا تاکہ اس سے تم مال حاصل کرو۔ حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) اس حدیث کی وجہ سے کپڑے میں نقش و نگار کو ناپسند کرتے تھے۔
تخریج : بخاری فی الادب باب ١٤‘ مسلم فی اللباس روایت ٨‘ ٩۔