hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6574

.

الطحاوي

6574
Al Tahawi
۶۵۷۲: مَا حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَانَۃَ الْمَعَافِرِیَّ حَدَّثَہٗ ، أَنَّہٗ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ یُخْبِرُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَمْنَعُ أَہْلَہُ الْحِلْیَۃَ وَالْحَرِیْرَ ، وَیَقُوْلُ اِنْ کُنْتُنَّ تُحْبِبْنَ حِلْیَۃَ الْجَنَّۃِ وَحَرِیْرَہَا ، فَلَا تَلْبَسْنَہَا فِی الدُّنْیَا .قِیْلَ لَہُمْ : أَمَّا قَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسُہٗ فِی الدُّنْیَا ، لَمْ یَلْبَسْہُ فِی الْآخِرَۃِ فَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِہٖ الرِّجَالَ خَاصَّۃً ، وَیَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِہٖ الرِّجَالَ وَالنِّسَائَ .وَمَا ذَکَرْنَا مِنْ حَدِیْثِ عَلِی ، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، وَزَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَأَبِیْ مُوْسَی ، یُخْبِرُوْنَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا أَرَادَ بِہٖ الرِّجَالَ ، دُوْنَ النِّسَائِ ، فَہُوَ أَوْلَی .وَہٰذَا الْمَعْنَی أَوْلَی أَنْ یُحْمَلَ عَلَیْہِ وَجْہُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، حَتّٰی لَا یُضَادَّ مَا ذَکَرْنَا قَبْلَہٗ۔وَلَئِنْ کَانَ مَا ذَکَرُوْھُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ الزُّبَیْرِ فِیْ ذٰلِکَ ، حُجَّۃً ، فَاِنَّ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ عَنْ عَلِیْ مِمَّا یُخَالِفُ ذٰلِکَ ، أَحْرَی بِأَنْ یَکُوْنَ حُجَّۃً .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ہٰذَا أَیْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خِلَافُ ذٰلِکَ .
٦٥٧٢: ابو عشانہ معافری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) جہنی کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ خبر دیتے سنا کہ آپ اپنے اہل کو زیور و ریشم سے منع فرماتے اور فرماتے اگر تم جنت کا زیور و ریشم پسند کرتی ہو۔ تو اس کو دنیا میں مت پہنو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ” من لبسہ فی الدنیا “ ۔۔۔اس سے مراد فقط مرد بھی ہوسکتے ہیں۔ ! مراد بقول تمہارے مرد و عورتیں دونوں ہوں اور ہم نے حضرت علی ‘ ابن عمر ‘ زید بن ارقم ‘ ابو موسیٰ (رض) کی روایات ذکر کی ہیں انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ اس سے مراد مرد ہیں عورتیں نہیں۔ پس یہ احتمال متعین ہوا۔ یہ مطلب لینے سے دونوں روایات میں تضاد نہ رہے گا۔ اگر ابن عمر (رض) اور ابن زبیر (رض) کی بات کو وہ حجت قرار دیتے ہیں تو حضرت علی (رض) کا قول ان سے بڑھ کر حجت ہے اور اب تو فیصلہ ہی ہوگیا کہ حضرت ابن عمر (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے قول کے خلاف اور حضرت علی (رض) کے قول کی حمایت میں نقل کیا ہے۔
تخریج : نسائی فی الزینہ باب ٣٩۔