۶۶۶۵: حَدَّثَنِیْ عَلِیٌّ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُغِیْرَۃَ ، قَالَ : کَانَ نَقْشُ خَاتَمِ اِبْرَاھِیْمَ نَحْنُ بِاَللّٰہِ وَلَہٗ .فَہٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ رَوَیْنَا عَنْہُمْ ہٰذِہِ الْآثَارَ ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَابِعِیہِمْ ، قَدْ کَانُوْا یَتَخَتَّمُوْنَ ، وَلَیْسَ لَہُمْ سُلْطَانٌ .فَہٰذَا وَجْہُ ہٰذَا الْبَابِ، مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، فَاِنَّ السُّلْطَانَ ، اِذَا کَانَ لَہٗ لُبْسُ الْخَاتَمِ ، ؛ لِأَنَّہٗ لَیْسَ بِحِلْیَۃٍ ، فَکَذٰلِکَ أَیْضًا غَیْرُ السُّلْطَانِ لَہٗ أَیْضًا لُبْسُہُ ؛ لِأَنَّہٗ لَیْسَ بِحِلْیَۃٍ .وَقَدْ رَأَیْنَا مَا نُہِیَ عَنْہُ مِنِ اسْتِعْمَالِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، یَسْتَوِی فِیْہٖ، السُّلْطَانُ وَالْعَامَّۃُ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ ، مَا أُبِیْحَ لِلسُّلْطَانِ مِنْ لُبْسِ الْخَاتَمِ ، یَسْتَوِی فِیْہِ ہُوَ وَالْعَامَّۃُ .وَاِنْ کَانَ اِنَّمَا أُبِیْحَ الْخَاتَمُ لِاحْتِیَاجِہِ اِلَیْہِ لِیَخْتِمَ بِہٖ مَالَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَأَنَّہٗ أَیْضًا مُبَاحٌ لِلْعَامَّۃِ ؛ لِاحْتِیَاجِہِمْ اِلَیْہِ لِلْخَتْمِ ، عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَکُتُبِہِمْ ، فَلَا فَرْقَ فِیْ ذٰلِکَ بَیْنَ السُّلْطَانِ ، وَغَیْرِ السُّلْطَانِ۔
٦٦٦٥ : حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ ابراہیم (رض) کی انگوٹھی کا نقش نحن باللّٰہ ولہ تھا۔ پس یہ صحابہ (رض) وتابعین (رح) ہیں جن سے ہم نے یہ آثار نقل کیے ہیں ‘ یہ سب حضرات انگوٹھیاں پہنتے تھے حالانکہ ان میں کوئی بھی حاکم نہ تھا۔ اس باب کا حکم روایات کے پیش نظر یہی ہے۔ اگر بادشاہ کے لیے انگوٹھی پہننا جائز ہے کیونکہ یہ زیور تو نہیں تو دیگر لوگوں کے لیے بھی اس کا پہننا درست ہے کیونکہ یہ زیور نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چاندی اور سونے (کے برتنوں) کی ممانعت میں بادشاہ اور عام لوگ برابر ہیں پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں بھی حکم اسی طرح ہو۔ اسی طرح بادشاہ کو چاندی کی انگوٹھی روا ہے تو وہ اور عام لوگ اس حکم میں دونوں برابر ہیں اگر بادشاہ کے لیے اس طور پر مباح کی گئی تاکہ وہ اس سے اموال مسلمین کے سلسلہ میں مہریں لگائے اور یہ بات عام بات عام لوگوں کے لیے مباح ہے (ضروریات میں کم زیادہ کا بس فرق ہے) کیونکہ ان کو بھی یہ ضرورت ہے کہ وہ اپنے اموال و خطوط پر مہر لگائیں اس سلسلہ میں بادشاہ اور غیر بادشاہ کا کوئی فرق نہیں۔ اس باب کا حکم روایات کے پیش نظر یہی ہے۔