۶۶۸۲ : حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ حَدِیْثِ اِسْحَاقَ بْنِ الْحُسَیْنِ ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ وَاللّٰہِ لَتُخْبِرَنِّیْ بِمَا أَصَبْتُ مِمَّا أَخْطَأْتُ .فَقَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمُ۔ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ہُوَ الْحَلِفُ فِیْہِ عَلَی اِخْبَارِہٖ بِصَوَابِہٖ أَوْ خَطَئِہٖ فِیْ شَیْئٍ لَمْ یَقُلْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْوَحْیِ الَّذِیْ یَعْلَمُ بِہٖ حَقِیْقَۃَ الْأَشْیَائِ ، لَا لِذِکْرِہِ الْقَسَمَ۔
٦٦٨٢: عبیداللہ بن عبداللہ نے اسحق بن حسین جیسی روایت نقل کی مگر اس کے اندر یہ بات زائد ہے : ” واللہ لتخبرنی بما اصبت مما اخطأت “ (اللہ کی قسم آپ مجھے ضرور بتلائیں جو میں نے اس میں سے درست کہا اور جو نادرست کہا) تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم مت اٹھاؤ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس کو ناپسند کیا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی درست اور نادرست کی اطلاع پر جو قسم اٹھائی وہ تھی اس لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی کے ذریعے تعبیر نہیں فرمائی تھی جس سے چیزوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے ناپسندیدگی نہیں فرمائی کہ انھوں نے قسم کا ذکر کیا ہے۔
تخریج : ترمذی فی الرؤیا باب ١٠‘ مسند احمد ١؍٢٣٦۔