۶۷۲۴ : فَاِنَّہٗ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ جَعْفَرٍ ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ الْأَعْوَرِ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُ مُتَّکِئًا ، فَنَزَلَ عَلَیْہِ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ : اُنْظُرُوْا اِلٰی ھٰذَا الْعَبْدِ ، کَیْفَ یَأْکُلُ مُتَّکِئًا قَالَ : فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ہٰذَا ہُوَ الْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ قَالَ : لَا آکُلُ مُتَّکِئًا ؛ لِأَنَّہٗ فِعْلُ الْمُلُوْکِ الْجَبَابِرَۃِ ، وَفِعْلُ الْأَعَاجِمِ ، فَکَرِہَ ذٰلِکَ ، وَرَغَّبَ فِیْ فِعْلِ الْعَرَبِ .کَمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ :
٦٧٢٤: اسماعیل الاعور کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹیک لگا کر کھا رہے تھے تو جبرائیل امین آئے اور کہنے لگے اس بندے کو دیکھو کس طرح ٹیک لگا کر کھا رہا ہے تو اسی وقت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدھے بیٹھ گئے۔ ممکن ہے کہ یہ معنی مراد ہو جس کی بناء پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا کیونکہ یہ متکبر بادشاہوں کی علامت ہے اور عجمیوں کا طریقہ ہے اس لیے اس کو ناپسند فرمایا اور اہل عرب کے فعل کو پسند کیا جیسا کہ حضرت عمر (رض) کی روایت میں وارد ہے۔