hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6798

.

الطحاوي

6798
Al Tahawi
۶۷۹۵ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو کَامِلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ ، قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ وَہُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی وِسَادَۃٍ حَمْرَائَ ، فِیْہَا تَصَاوِیْرُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَلَیْسَ ہٰذَا یُکْرَہٗ؟۔فَقَالَ : لَا ، اِنَّمَا یُکْرَہُ مَا یُعَلَّقُ مِنْہٗ، وَمَا نُصِبَ مِنْ التَّمَاثِیْلِ ، وَأَمَّا مَا وُطَائَ ، فَلَا بَأْسَ بِہٖ .قَالَ : ثُمَّ حَدَّثَنِیْ عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ أَصْحَابَ ہٰذِہٖ الصَُّوَرِ یُعَذَّبُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یَنْفُخُوْا فِیْہَا الرُّوْحَ ، یُقَالُ لَہُمْ أَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ۔فَدَلَّ ہٰذَا مِنْ قَوْلِ سَالِمٍ ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .ثُمَّ اخْتَلَفَ النَّاسُ بَعْدَ ذٰلِکَ ، فِیْ ہٰذِہٖ الصَُّوَرِ مَا ہِیَ ؟ فَقَالَ قَوْمٌ : قَدْ دَخَلَ فِیْ ذٰلِکَ صُوْرَۃُ کُلِّ شَیْئٍ ، مِمَّا لَہٗ رُوْحٌ ، وَمِمَّا لَیْسَ لَہٗ رُوْحٌ ، قَالُوْا : ؛ لِأَنَّ الْأَثَرَ جَائَ فِیْ ذٰلِکَ مُبْہَمًا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٦٧٩٥: لیث بیان کرتے ہیں کہ میں سالم بن عبداللہ کے ہاں گیا وہ ایک سرخ تکیہ کو سہارا بنائے ہوئے تھے جس میں تصاویر تھیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کیا یہ مکروہ نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ مکروہ وہ ہیں جو لٹکائی جائیں اور جو تماثیل کی طرح گاڑی جائیں جو روندی جائیں ان میں کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے مجھے اپنے والد سے یہ روایت بیان کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان تصاویر والے قیامت کے دن عذاب دیئے جائیں گے تاکہ وہ اس میں روح ڈالیں ان کو کہا جائے گا جو تم نے بنایا اس کو زندہ کرو۔ سالم کا یہ قول ہماری بات پر دلالت کرتا ہے پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ان تصاویر کی حقیقت کیا ہے ؟ فریق اوّل کا کہنا یہ ہے کہ ہر اس چیز کی تصویر اس میں داخل ہے جس میں روح ہو۔ اور وہ بھی جس میں روح نہ ہو۔ کیونکہ اس سلسلہ میں جو اثر وارد ہوا ہے وہ مبہم ہے۔ مزید یہ روایات بھی دلیل ہیں۔