۶۸۰۵ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : اسْتَأْذَنَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ ، عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اُدْخُلْ فَقَالَ : کَیْفَ أَدْخُلُ ، وَفِیْ بَیْتِکَ سِتْرٌ ، فِیْہِ تَمَاثِیْلُ خَیْلٍ وَرِجَالٍ ؟ فَاِمَّا أَنْ تَقْطَعَ رُئُوْسَہَا ، وَاِمَّا أَنْ تَجْعَلَہَا بِسَاطًا ، فَاِنَّا - مَعْشَرَ الْمَلَائِکَۃِ - لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ تَمَاثِیْلُ۔فَلَمَّا أُبِیْحَتْ التَّمَاثِیْلُ بَعْدَ قَطْعِ رُئُ وْسِہَا الَّذِیْ لَوْ قُطِعَ مِنْ ذِی الرُّوْحِ ، لَمْ یَبْقَ ، دَلَّ ذٰلِکَ عَلَی اِبَاحَۃِ تَصْوِیْرِ مَا لَا رُوْحَ لَہٗ، وَعَلٰی خُرُوْجِ مَا لَا رُوْحَ لِمِثْلِہٖ مِنَ الصُّوَرِ ، مِمَّا قَدْ نُہِیَ عَنْہُ فِی الْآثَارِ الَّتِیْ ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عِکْرَمَۃَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ أَیْضًا۔
٦٨٠٥: مجاہد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں گھر میں آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا داخل ہوجاؤ۔ تو انھوں نے کہا میں کس طرح داخل ہوں جبکہ آپ کے گھر میں پردہ ہے جس میں مورتیاں بنی ہیں۔ گھوڑے اور مردوں کی مورتیاں ہیں یا تو ان کے سر کاٹ ڈالیں یا اس کو بچھونا بنالیں بیشک ہم ملائکہ کی جماعت ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورتیاں ہوں۔ جب تماثیل کے سر کاٹ ڈالنے کے بعد اس کپڑے کا استعمال درست ہے تو وہ سر جو ذی روح سے کاٹ ڈالا جائے تو وہ ذی روح نہ رہے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ غیر ذی روح کی تصویر درست ہے اور بےروح اشیاء اس حکم سے خارج ہیں جس میں ممانعت وارد ہے۔ روایت عکرمہ بھی ملاحظہ کرلیں۔