۶۸۰۶ : مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو ثَابِتٍ الْمَدَنِیُّ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : الصُّوْرَۃُ الرَّأْسُ ، فَکُلُّ شَیْئٍ لَیْسَ لَہٗ رَأْسٌ ، فَلَیْسَ بِصُوْرَۃٍ .وَفِی قَوْلِ جِبْرِیْلَ ، صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہٖ، لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اِمَّا أَنْ تَجْعَلَہَا بِسَاطًا ، وَاِمَّا أَنْ تَقْطَعَ رُئُوْسَہَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یُبَحْ مِنَ اسْتِعْمَالِ مَا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرِ اِلَّا بِأَنْ یُبْسَطَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَفِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ طَلْحَۃَ أَنَّہٗ کَانَ فِیْ بَیْتِہٖ سِتْرٌ فِیْہِ تَصَاوِیْرُ ، وَلَمْ یَدْخُلْ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ، فِیْمَا سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ ؛ لِأَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِلَّا مَا کَانَ رَقْمًا فِیْ ثَوْبٍ۔قِیْلَ لَہٗ : أَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ السِّتْرِ ، فَاِنَّمَا ہُوَ فِعْلُ أَبِیْ طَلْحَۃَ ، وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُوْقِفْہُ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ الثَّوْبَ الْمُسْتَثْنٰی ھُوَ السِّتْرُ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ السِّتْرُ أَیْضًا فِیْمَا اسْتَثْنٰی .فَلَمَّا احْتَمَلَ مَا ذَکَرْنَاہٗ، وَکَانَ فِیْ حَدِیْثِ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا وَصَفْنَا ، عَلِمْنَا أَنَّ الثِّیَابَ الْمَبْسُوْطَۃَ ، کَہَیْئَۃِ الْبُسُطِ ، لَا مَا سِوَاہَا مِنَ الثِّیَابِ الْمُعَلَّقَۃِ وَالْمَلْبُوْسَۃِ ، وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالَی۔
٦٨٠٦: عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ تصویر اصل سر ہے جس کا سر نہ ہو وہ تصویر نہیں۔ یہ بات جبرائیل (علیہ السلام) کے قول میں موجود ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انھوں نے حدیث ابوہریرہ (رض) میں کہا ہے۔ ” اما ان تجعلہا بساطا واما ان تقطع رؤسہا “ اس سے یہ دلیل مل گئی کہ جس کپڑے میں ذی روح کی تصویر ہو اس کے استعمال کی ایک شکل ہے اور وہ بچھونا بنانا ہے۔ ابو طلحہ (رض) والی روایت میں ہے کہ ان کے گھر میں پردہ تھا جس میں تصاویر تھیں اور یہ ان کے ہاں اس میں داخل نہیں تھا جو انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن رکھا تھا۔ ” لاتدخل الملائکہ بیتا فیہ صورۃ “ کیونکہ انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے : ” الا ما کان رقما فی ثوب “ کا ارشاد سنا تھا۔ آپ نے جس پردے کا ذکر کیا وہ حضرت ابو طلحہ کا عمل ہے اور یہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات پر ان کو مطلع نہ فرمایا ہو کہ پردہ بھی اس استثنائی حکم میں داخل ہے۔ جب یہ احتمال ہے اور مجاہد کی حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت جو بیان کی گئی تو اس سے معلوم ہوا بچھے ہوئے کپڑے بچھونے کا حکم رکھتے ہیں پہنے اور لٹکے ہوئے کپڑے اس طرح نہیں۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔