۶۸۰۷ : حَدَّثَنِیْ مُوْسَیْ بْنُ الْمُبَارَکِ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ سَعِیْدٍ الْقَطَّانِ ، قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِی الْجُعْفِیُّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، قَالَ : لَا یَقُوْلُ أَحَدُکُمْ اِنِّیْ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ اِلَیْہِ ثُمَّ یَعُوْدُ فَیَکُوْنُ کَذِبُہٗ، وَیَکُوْنُ ذَنْبًا ، وَلٰـکِنْ لِیَقُلْ اللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ، وَتُبْ عَلَیَّ۔وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ۔
قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرِ بْنَ أَبِیْ عِمْرَانَ ، یَکْرَہٗ أَنْ یَقُوْلَ الرَّجُلُ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ اِلَیْہِ وَلٰـکِنَّہٗ یَقُوْلُ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ، وَأَسْأَلُہُ التَّوْبَۃَ۔وَقَالَ : رَأَیْتُ أَصْحَابَنَا یَکْرَہُوْنَ ذٰلِکَ ، وَیَقُوْلُوْنَ : التَّوْبَۃُ مِنَ الذَّنْبِ ہِیَ تَرْکُہٗ، وَتَرْکُ الْعَوْدُ عَلَیْہٖ، وَذٰلِکَ غَیْرُ مَوْہُوْمٍ مِنْ أَحَدٍ فَاِذَا قَالَ أَتُوْبُ اِلَیْہِ فَقَدْ وَعَدَ اللّٰہَ أَنْ لَا یَعُوْدَ اِلٰی ذٰلِکَ الذَّنْبِ ، فَاِذَا عَادَ اِلَیْہِ بَعْدَ ذٰلِکَ ، کَانَ کَمَنْ وَعَدَ اللّٰہَ ثُمَّ أَخْلَفَہٗ. وَلٰـکِنْ أَحْسَنُ ذٰلِکَ أَنْ یَقُوْلَ أَسْأَلُ اللّٰہَ التَّوْبَۃَ أَیْ : أَسْأَلُ اللّٰہَ أَنْ یَنْزِعَنِیْ عَنْ ہٰذَا الذَّنْبِ ، وَلَا یُعِیْدَنِیْ اِلَیْہِ أَبَدًا .وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ خُثَیْمٍ۔
٦٨٠٧: ربیع بن خثیم کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ” انی استغفر اللہ واتوب الیہ “ پھر وہ گناہ کی طرف لوٹے گا تو یہ اس کا جھوٹ ہوجائے گا اور گناہ بن جائے گا بلکہ اس طرح کہے : ” اللہم اغفرلی وتب علی “ مزید دلیل یہ ہے۔
ابو جعفر بن عمران (رح) کا مسلک یہ ہے کہ وہ استغفر اللہ واتوب الیہ کے کلمات کا کہنا درست قرار نہ دیتے تھے۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ ان کلمات میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : میں نے ابو جعفر بن ابی عمران سے سنا کہ وہ استغفر اللہ واتوب الیہ کہنا مکروہ قرار دیتے تھے بلکہ اس طرح کہنے کا کہتا : استغفر اللہ واسالہ التوبہ۔ میں نے اپنے کئی علماء کو پایا کہ وہ اس کو ناپسند کرتے اور کہتے ہیں گناہ سے توبہ کا مطلب ترک گناہ ہے اور اس کی طرف دوبارہ نہ لوٹنا ہے اور اس کا کہنے والوں کو خیال بھی نہیں۔ جب اس نے کہا اتوب الیہ تو اس نے اللہ تعالیٰ سے گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا وعدہ کرلیا جب اس کے بعد اس کی طرف لوٹا تو یہ اسی طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر کے مکر گیا لیکن بہتر یہ ہے کہ اس طرح کہے ” اسال اللہ التوبہ “ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس گناہ سے پیچھے کھینچ لے اور کبھی اس کی طرف نہ لوٹائے اور یہ بات ربیع بن خثیم سے مروی ہے۔ روایت یہ ہے۔