۶۸۷۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْشَرٍ الْبَرَائُ ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ طَیْسَلَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ وَالْحَرُّ بَعْدَہٗ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَعْشَی الْمَازِنِیُّ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْشَدْتُہٗ : یَا مَالِکَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرَبْ اِنِّیْ لَقِیْتُ دِرْبَۃً مِنْ الذِّرَبْ خَرَجْتُ أَبْغِیْہَا الطَّعَامَ فِیْ رَجَبْ أَخْلَفَتِ الْعَہْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبِ وَہُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ : فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : وَہُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ۔
٦٨٧٢: معن بن ثعلبہ نے نقل کیا ہے کہ اعشیٰ مازنی کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور یہ شعر پڑھ کر سنائے۔ اے لوگو کے مالک اور عرب کے حکمران۔ میں نے زبان دراز عورتوں میں سے ایک عورت کو پایا۔ ! اس کو رزق کی تلاش نے تھکا دیا اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور ذلیل لوگوں کے ہاں پناہ لے لی۔ " وہ عورتیں ایک ایسا شر ہیں جو دوسروں پر غالب آجاتی ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے یہ غالب ہونے والا شر ہے جو غالب آتی ہیں جس پر غالب آتی ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٠٢۔