۷۰۲۸: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : سَمِعْتُ حُمَیْدًا قَالَ : ابْنُ مَرْزُوْقٍ أَظُنُّہُ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : قَالَ لِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ أَشَعَرَتْ أَنَّہٗ کَانَ یُسَلِّمُ عَلَیَّ فَلَمَّا اکْتَوَیْتُ ، انْقَطَعَ عَنِّیْ التَّسْلِیْمُ۔فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اکْتَوَوْا ، وَکَوَوْا غَیْرَہُمْ. وَفِیْہِمُ ابْنُ عُمَرَ ، وَقَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أَکْتَوِیَ۔فَدَلَّ فِعْلُہُ ذٰلِکَ عَلَی ثُبُوْتِ نَسْخِ مَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَرِہَہٗ مِنْ ذٰلِکَ .وَفِیْہِمْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ وَہُوَ الَّذِیْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَدْحُہُ لِلَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَیْضًا عَلٰی عِلْمِہٖ بِاِبَاحَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِذٰلِکَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَکَیْفَ یَکُوْنُ ذٰلِکَ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؟ .
٧٠٢٨: ابن مرزوق کہتے ہیں کہ میرے خیال میں مطرف سے روایت ہے کہ مجھے عمران بن حصین (رض) نے فرمایا کیا تم نے محسوس کیا کہ مجھے سلام کیا جاتا تھا (فرشتے سلام کرتے تھے) جب سے داغ لگایا گیا تو وہ سلام مجھ سے منقطع ہوگیا۔ یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں انھوں نے خود داغا اور ان کو داغ لگوائے گئے۔ ان میں ابن عمر (رض) بھی شامل ہیں جنہوں نے یہ روایت نقل کی ہے ” مااحب ان اقتوی “ ان کا فعل اس روایت کے خلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ کراہت کا حکم منسوخ ہوچکا۔ ان میں حضرت عمران بن حصین بھی ہیں جنہوں نے داغ نہ لگوانے والے لوگوں کی تعریف میں روایت نقل کی ہے ان کا عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اباحت کا علم ہوا تبھی انھوں نے داغ لگوایا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت عمران کی روایت سے نسخ ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ خود ان کی یہ دوسری روایت موجود ہے۔