۷۰۲۹: فَذَکَرَ مَا حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ جَابِرٍ قَالَ : ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ جَرِیْرٍ عَنْ أَبِیْ مَخْلَدٍ قَالَ : کَانَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ، یَنْہٰی عَنِ الْکَیِّ فَابْتُلِی فَکَانَ یَقْعُدُ وَیَقُوْلُ لَقَدْ اکْتَوَیْتُ کَیَّۃً بِنَارٍ ، فَمَا أَبْرَأَتْنِیْ مِنْ اِثْمٍ ، وَلَا شَفَتْنِیْ مِنْ سَقَمٍ۔قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ الْکَیُّ الَّذِیْ کَانَ عِمْرَانُ یَنْہَیْ عَنْہُ، ہُوَ الْکَیُّ ، یُرَادُ بِہٖ ، لَا لِلْعِلَاجِ مِنَ الْبَلَائِ الَّذِیْ قَدْ حَلَّ ، وَلٰـکِنْ لِمَا یُفْعَلُ قَبْلَ حُلُوْلِ الْبَلَائِ ، مِمَّا کَانُوْا یَرَوْنَ أَنَّہٗ یَدْفَعُ الْبَلَائَ فَلَمَّا اُبْتُلِیَ بِمَا کَانَ اُبْتُلِیَ بِہٖ ، اکْتَوٰی عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ عِلَاجًا لِمَا بِہٖ مِنَ الْبَلَائِ .فَلَمَّا لَمْ یَبْرَأْ بِذٰلِکَ عَلِمَ أَنَّ کَیَّہُ لَمْ یُوَافِقْ بَلَاہٗ، وَلَمْ یَکُنْ عِلَاجًا لَہٗ، فَأَشْفَقَ أَنْ یَکُوْنَ بِہَا اِثْمًا فَقَالَ : مَا شَفَتْنِیْ مِنْ سَقَمٍ ، وَلَا أَبْرَأَتْنِیْ مِنْ اِثْمٍ۔أَیْ : لَمْ أَعْلَمْ أَنِّیْ بَرِیْئٌ مِنَ الْاِثْمِ ، مَعَ أَنَّہٗ لَمْ یُحَقِّقْ أَنَّہٗ صَارَ آثِمًا بِہَا ، لِأَنَّہٗ اِنَّمَا کَانَ أَرَادَ بِہَا الدَّوَائَ لَا غَیْرَ ذٰلِکَ وَالدَّوَائُ مُبَاحٌ لِلنَّاسِ جَمِیْعًا ، وَہُمْ مَأْمُوْرُوْنَ بِہٖ .وَقَدْ جَائَ تْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آثَارٌ تَنْہٰی عَنِ التَّمَائِمِ۔فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٠٢٩: ابو مخلد نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ وہ داغنے سے منع کرتے تھے پھر وہ ابتلاء میں آگئے چنانچہ وہ جب بیٹھتے تو یوں کہتے کہ میں نے آگ سے داغ بھی لگوائے لیکن اس داغنے نے نہ تو مجھے گناہ سے بری الذمہ کیا اور نہ بیماری سے صحت ہوئی۔ ممکن ہے کہ حضرت عمران جس داغنے سے منع کرتے تھے اس سے وہ جاہلیت والا داغنا مراد تھا علاج مرض مقصود نہیں تھا اس لیے کہ وہ تکلیف کے آنے سے پہلے کیا جاتا تھا اس کے متعلق لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس سے تکلیف دور ہوجاتی ہے جب وہ تکلیف میں مبتلا ہوئے تو اس وقت انھوں نے بطور علاج کے داغ لگوائے مگر جب اس سے بھی درست نہ ہوئے تو ان کو اس سے یہ پتہ چل گیا کہ یہ علاج ان کی مرض کے مطابق نہیں ہے پس اس لیے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا شاید کہیں یہ گناہ نہ ہو کہ اس کی وجہ سے میری بیماری بھی ٹھیک نہیں ہوئی اور نہ اس کے کرلینے کی وجہ سے میں گناہ سے بری الذمہ رہا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یقینی طور پر یہ معلوم نہیں کہ گناہ سے بری الذمہ ہوں اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ کوئی قطعی بات نہیں تھی کہ وہ اس سے گناہ گار ہوگئے ہیں کیونکہ اس سے مقصود ان کا علاج تھا نہ کہ کچھ اور۔ اور علاج کرنا سب لوگوں کے لیے جائز اور مباح ہے بلکہ اس کا حکم ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے آثار وارد ہیں جو تعویذ کی ممانعت کرتے ہیں اس سلسلے میں مندرجہ ذیل روایات ہیں۔