hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7058

.

الطحاوي

7058
Al Tahawi
۷۰۵۵: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ أَہْلُ بَیْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ یَرْقُوْنَ مِنَ الْحَیَّۃِ ، فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَی .فَأَتَاہٗ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ کُنْتُ أَرْقِیْ مِنَ الْعَقْرَبِ ، وَاِنَّک نَہَیْتُ عَنِ الرُّقٰی .فَقَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَنْفَعَ أَخَاہٗ، فَلْیَفْعَلْ .قَالَ : وَأَتَاہُ رَجُلٌ کَانَ یَرْقِیْ مِنَ الْحَیَّۃِ ، فَقَالَ اعْرِضْہَا عَلَیَّ فَعَرَضَہَا عَلَیْہٖ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِہَا ، اِنَّمَا ہِیَ مَوَاثِیْقُ۔فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ مَا رُوِیَ فِیْ اِبَاحَۃِ الرُّقٰی‘ نَاسِخٌ لِمَا رُوِیَ فِی النَّہْیِ عَنْہَا .ثُمَّ أَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِی تِلْکَ الرُّقٰی‘ کَیْفَ ہِیَ ؟ فَاِذَا عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ حَدَّثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ، أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِہَا مَا لَمْ یَکُنْ شِرْکٌ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا۔
٧٠٥٥: ابو سفیان نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے بعض انصار گھرانے سانپ کا دم کرتے تھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دم سے منع فرمایا تو آپ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور عرض کرنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں بچھو کا دم کرتا ہوں اور آپ نے اس سے منع فرما دیا ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص تم میں سے کسی بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو وہ ضرور پہنچائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا جو سانپ کا دم کرتا تھا آپ نے اس کو فرمایا تم مجھے اپنا دم سناؤ۔ اس نے سنایا تو آپ نے فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں۔ یہ معاہدات ہیں۔ ان روایات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دم کے جواز میں جو روایات وارد ہیں وہ ممانعت کی روایات کے لیے ناسخ ہیں۔ دم کی کیفیت کے سلسلہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ جب تک وہ شرکیہ کلمات نہ ہوں اس وقت تک ان میں کچھ حرج نہیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایات مروی ہیں ملاحظہ ہو۔
تخریج : سابقہ روایت ٧٠٥٤ کی تخریج ملاحظہ ہو۔