hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7059

.

الطحاوي

7059
Al Tahawi
۷۰۵۶: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیْمٍ قَالَ : حَدَّثَتْنِی الرَّبَابُ قَالَتْ سَمِعْتُ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ یَقُوْلُ : مَرَرْنَا بِسَیْلٍ ، فَدَخَلْنَا نَغْتَسِلُ ، فَخَرَجْتُ مِنْہُ وَأَنَا مَحْمُوْمٌ ، فَنُمِیَ ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوْا أَبَا ثَابِتٍ ، فَلْیَتَعَوَّذْ .فَقُلْتُ :یَا سَیِّدِی ، اِنَّ الرُّقٰی صَالِحَۃٌ ؟ فَقَالَ : لَا رُقْیَۃَ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ ، مِنَ النَّظْرَۃِ ، وَالْحُمَّۃِ ، وَاللَّدْغَۃِ۔فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ مَا أَبَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنِ الرُّقٰی‘ ہُوَ التَّعَوُّذُ .فَأَمَّا قَوْلُ سَہْلٍ لَا رُقْیَۃَ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ ، فَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ عَلِمَ ذٰلِکَ مِنْ اِبَاحَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ نَہْیِہِ الْمُتَقَدِّمِ ، وَلَمْ یَعْلَمْ مَا سِوٰی ذٰلِکَ مِمَّا رَوَیْنَا عَنْ غَیْرِہٖ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِیْہِ
٧٠٥٦: رباب حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارا گزر وادی کے پاس سے ہوا ہم اس میں غسل کے لیے داخل ہوئے جب میں نکلا تو مجھے بخار تھا اس بات کی اطلاع جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچائی گئی تو آپ نے فرمایا۔ ابو ثابت کو کہو کہ وہ تعوذ پڑھ کر پھونکے۔ میں نے کہا محترم دم تو درست ہوا۔ تو آپ نے فرمایا تین باتوں کے لیے رقیہ درست ہے۔ آنکھ لگنا۔ ! بخار ۔ " ڈسنے سے۔ اس میں احتمال ہے کہ جس دم کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مباح قرار دیا وہ تعوذ ہو۔ باقی حضرت سہل (رض) کا قول ” لارقیۃ الامن ثلاثہ “ اس میں احتمال یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ممانعت کے بعد اباحت ثابت ہے اس کے علاوہ کچھ معلوم نہیں ہوتا اور ان کے علاوہ دیگر روایات میں رخصتیں دی ہیں۔ (ملاحظہ ہو)
تخریج : ابو داؤد فی الطب باب ١٨‘ مسند احمد ٣؍٤٨٦۔