۷۱۲۹: فَاِذَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَیَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ قَدْ حَدَّثَانَا ، قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ عَنْ یَحْیٰی بْنِ حَمْزَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِی الْوَضِینُ بْنُ عَطَائٍ أَنَّ الْقَاسِمَ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ حَدَّثَہٗ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلّٰی بِنَا ، النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیْدٍ ، فَکَبَّرَ أَرْبَعًا ، وَأَرْبَعًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ حِیْنَ انْصَرَفَ ، قَالَ : لَا تَنْسَوْا ، کَتَکْبِیْرِ الْجَنَائِزِ ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِہٖ، وَقَبَضَ اِبْہَامَہٗ۔فَہٰذَا حَدِیْثٌ ، حَسَنُ الْاِسْنَادِ .وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، وَیَحْیٰی بْنُ حَمْزَۃَ ، وَالْوَضِینُ وَالْقَاسِمُ کُلُّہُمْ أَہْلُ رِوَایَۃٍ ، مَعْرُوْفُوْنَ بِصِحَّۃِ الرِّوَایَۃِ لَیْسَ کَمَنْ رَوَیْنَا عَنْہُ الْآثَارَ الْأُوَلَ .فَاِنْ کَانَ ہٰذَا الْبَابُ مِنْ طَرِیْقِ صِحَّۃِ الْاِسْنَادِ ، یُؤْخَذُ ، فَاِنَّ ہٰذَا أَوْلَی أَنْ یُؤْخَذَ بِہٖ ، مِمَّا خَالَفَہُ .غَیْرَ أَنَّہٗ ذَکَرَ فِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَبَّرَ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ أَرْبَعًا، وَأَخْبَرَہُمْ أَنَّ ذٰلِکَ کَتَکْبِیْرِ الْجَنَائِزِ۔فَاحْتَمَلَ بِأَنْ یَکُوْنَ الْأَرْبَعُ ، سِوَیْ تَکْبِیْرَۃِ الْاِفْتِتَاحِ ، فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ قَدْ وَافَقَ قَوْلَ اللَّذِیْنَ احْتَجَجْنَا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ لِقَوْلِہِمْ .وَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ عَلٰی أَرْبَعٍ ، بِتَکْبِیْرَۃِ الْاِفْتِتَاحِ ، فَیَکُوْنُ مُخَالِفًا لِقَوْلِہِمْ .فَنَظَرْنَا فِیْمَا رُوِیَ مِنَ الْآثَارِ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، سِوٰی ہٰذَا الْأَثَرِ ، أَیْضًا .
٧١٢٩: وضین بن عطاء کہتے ہیں ابو عبدالرحمن قاسم نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد صحابہ نے یہ بات ذکر کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز جنازہ کی طرح عید کے دن نماز عید پڑھائی آپ نے چار چار تکبیرات کہیں پھر فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا مت بھولنا یہ جنازہ کی تکبیروں کی طرح ہیں اور اپنے انگوٹھے کو بند کر کے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے حسن ہے اس کے تمام روات عبداللہ بن یوسف ‘ یحییٰ بن حمزہ ‘ وضین اور قاسم صحت روایت میں مشہور ہیں یہ ان روایات کی طرح نہیں جو شروع میں ذکر کی گئی ہیں اگر سند کی صحت کے اعتبار سے لیا جائے تو یہ روایت ان ساری روایات سے بہتر ہے البتہ اس میں یہ مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ہر رکعت میں چار تکبیرات کہی اور ان کو بتلایا کہ ہر رکعت میں جنازہ کی تکبیروں کی طرح تکبیریں ہیں۔ البتہ اس میں یہ احتمال ہے کہ چار تکبیرات تکبیر افتتاح کے علاوہ ہوں اس صورت میں یہ فریق ثانی کے قول کے موافق ہوگا جن کے لیے ہم نے استدلال پیش کیا ہے۔ ! دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ تکبیر افتتاح سمیت چار ہوں اس صورت میں یہ فریق ثانی کی دلیل نہیں بنے گی چنانچہ ہم نے ایک احتمال کو متعین کرنے کے لیے اس باب کے دیگر آثار پر نگاہ ڈالی۔