۷۱۳۰: فَاِذَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُوْزَجَانِیُّ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِیْعِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیْہَ أَنَّہٗ سَمِعَ مَکْحُوْلًا یَقُوْلُ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دَعَا أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَسَأَلَہُمَا کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکَبِّرُ فِی الْأَضْحٰی وَالْفِطْرِ ؟ فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: أَرْبَعًا ، کَتَکْبِیْرِہٖ عَلَی الْجَنَائِزِ ، وَصَدَّقَہُ حُذَیْفَۃُ .فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی : کَذٰلِکَ کُنْتُ أُکَبِّرُ لِأَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، اِذْ کُنْتُ أَمِیْرًا عَلَیْہِمْ۔فَلَمْ یَکُنْ فِیْ ہٰذَا أَیْضًا زِیَادَۃٌ عَلٰی مَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا فَاِذَا یَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ۔
٧١٣٠: عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے مکحول کو یہ کہتے سنا کہ مجھے ابو عائشہ نے بیان کیا کہ سعید بن عاص (رض) نے ابو موسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان (رض) کو بلایا اور ان سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین میں کس طرح تکبیریں کہتے تھے تو حضرت ابو موسیٰ کہنے لگے چار۔ جس طرح کہ جنازہ پر تکبیریں کہی جاتی ہیں حضرت حذیفہ نے اس کی تصدیق کی پھر حضرت ابو موسیٰ کہنے لگے جب میں اہل بصرہ پر امیر تھا تو اسی طرح تکبیرات کہا کرتا تھا۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے حسن ہے اس کے تمام روات عبداللہ بن یوسف ‘ یحییٰ بن حمزہ ‘ وضین اور قاسم صحت روایت میں مشہور ہیں یہ ان روایات کی طرح نہیں جو شروع میں ذکر کی گئی ہیں اگر سند کی صحت کے اعتبار سے لیا جائے تو یہ روایت ان ساری روایات سے بہتر ہے البتہ اس میں یہ مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ہر رکعت میں چار تکبیرات کہی اور ان کو بتلایا کہ ہر رکعت میں جنازہ کی تکبیروں کی طرح تکبیریں ہیں۔ البتہ اس میں یہ احتمال ہے کہ چار تکبیرات تکبیر افتتاح کے علاوہ ہوں اس صورت میں یہ فریق ثانی کے قول کے موافق ہوگا جن کے لیے ہم نے استدلال پیش کیا ہے۔ ! دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ تکبیر افتتاح سمیت چار ہوں اس صورت میں یہ فریق ثانی کی دلیل نہیں بنے گی چنانچہ ہم نے ایک احتمال کو متعین کرنے کے لیے اس باب کے دیگر آثار پر نگاہ ڈالی۔ اس روایت میں بھی پہلی روایت کا سا مفہوم ہے اور اس میں کچھ بھی اضافہ نہیں ہے اب ہم یحییٰ بن عثمان والی روایت میں غور کرتے ہیں۔