hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7171

.

الطحاوي

7171
Al Tahawi
۷۱۶۸: بِمَا حَدَّثَنِیْ بِہٖ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا، مِنْہُمْ وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ مُجَاہِدٍ الْمَدَنِیُّ ، أَبُوْ حَزْرَۃَ ، عَنِ عَبَادَۃِ ابْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِیْ، نَطْلُبُ ہٰذَا الْعِلْمَ فِیْ ہٰذَا الْحَیِّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَبْلَ أَنْ یَہْلَکُوْا فَکَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِیْنَا ، أَبُو الْیُسْرِ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَہُ غُلَامٌ لَہٗ، وَعَلَیْہِ بُرْدَۃٌ وَمَعَافِرِیٌّ ، وَعَلَی غُلَامِہِ بُرْدَۃٌ وَمَعَافِرِیٌّ .قَالَ : فَقُلْتُ لَہٗ : یَا عَمُّ ، لَوْ أَخَذْتُ بُرْدَۃَ غُلَامِکَ، وَأَعْطَیْتُہٗ مُعَافِرِیَّکَ ، وَأَخَذْت مُعَافِرِیَّہٗ، وَأَعْطَیْتُہٗ بُرْدَتَکَ، فَکَانَتْ عَلَیْکَ حُلَّۃٌ ، وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ .قَالَ : فَمَسَحَ رَأْسِیْ وَقَالَ : اللّٰہُمَّ بَارِکْ فِیْہِ۔ثُمَّ قَالَ : یَا ابْنَ أَخِیْ بَصُرَتْ عَیْنَایَ ہَاتَانِ ، وَسَمِعَتْہُ أُذُنَایَ ہَاتَانِ ، وَوَعَاہُ قَلْبِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَقُوْلُ أَطْعِمُوْھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ ، وَاکْسُوْھُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ فَکَانَ اِنْ أَعْطَیْتُہٗ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْیَا أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ یَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
٧١٦٨: ابو حرزہ یعقوب نے عبادہ بن ولید بن حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تاکہ انصار سے علم حاصل کریں۔ اس سے پہلے کہ وہ دنیا سے رخصت ہوں۔ چنانچہ سب سے پہلے میری ملاقات حضرت ابوالیسر (رض) صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت ہوئی جبکہ ان کا غلام ان کے ساتھ تھا اور انھوں نے ایک چادر اور معافری کپڑا زیب تن کر رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور معافری جوڑا زیب تن کر رکھا تھا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے چچا ! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے اور اپنا معافری کپڑا اس کو دے دیتا اور اس کا معافری کپڑا لے لیتا اور اپنی چادر اس کو دے دیتے تو ایک قسم کا جو اڑا اس کا ہوجاتا اور ایک قسم کا جوڑا آپ کا بن جاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور فرمایا ” اللہم بارک فیہ “ اللہ تمہیں برکت دے۔ پھر فرمایا اے بھتیجے ! میری ان دو آنکھوں نے ملاحظہ کیا اور میرے ان دو کانوں نے سنا اور میرے سل نے اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محفوظ کیا۔ جبکہ آپ فرما رہے تھے ان غلاموں کو وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور ان کو وہی پہنو جو تم پہنتے ہو۔ پس میرا اس کو سامان دنیا دے دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ قیامت کے روز میری نیکیاں لے جائے۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ١٥‘ مسلم فی الزھد ٧٤‘ والایمان ٣٨‘ ابن ماجہ فی الادب باب ١٠‘ مسند احمد ٤؍٣٦‘ ٥؍١٦٨‘ ١٧٣۔