۷۲۵۵ : مَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ : قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ مُخَارِقَ ، وَزُہَیْرُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَک الْأَقْرَبِیْنَ انْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی رَضَمَۃٍ مِنْ جَبَلٍ ، فَعَلَا أَعْلَاہَا ، ثُمَّ قَالَ یَا بَنِیْ عَبْدِ مُنَافٍ ، اِنِّیْ نَذِیْرٌ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ قَصَدَ بَنِیْ أَبِیْہَ الرَّابِعِ. وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٢٥٥: قبیصہ بن مخارق اور زہیر بن عمرو دونوں کہتے ہیں کہ جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ (الشعرا ٢١٤) نازل ہوئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑ کی ایک چٹان پر تشریف لے گئے اور اس کے اوپر چڑھ کر فرمایا یا بنی عبد مناف انی نذیر اے بنی عبد مناف بیشک میں منذر بن کر آیا ہوں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے چوتھے باپ کی اولاد کا قصد فرمایا۔ اس سلسلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت بھی وارد ہے (ملاحظہ ہو)
تخریج : مسلم فی الایمان حدیث ٣٥٣‘ مسند احمد ٣؍٤٧٦۔