Abu Dawood
7. نکاح کا بیان
سنن أبي داود
2046
Abu Dawoodحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى، إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ فَاسْتَخْلَاهُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ، قَالَ لِي: تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ، فَجِئْتُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِجَارِيَةٍ بِكْرٍ، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.
علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان (رض) سے ہوگئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبداللہ بن مسعود (رض) نے محسوس کیا کہ انہیں (شادی کی) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا : علقمہ ! آجاؤ ١ ؎ تو میں گیا تو عثمان (رض) عنہ ٢ ؎ نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آجائے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہیئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہوگا ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١٠ (١٩٠٥) ، النکاح ٢ (٥٠٦٥) ، ٣ (٥٠٦٦) ، صحیح مسلم/النکاح ١ (١٤٠٠) ، سنن الترمذی/النکاح ١ (١٠٨١ تعلیقًا) ، سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٤١) ، والنکاح ٣ (٣٢٠٩) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١ (١٨٤٥) ، ( تحفة الأشراف : ٩٤١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٨، ٤٢٤، ٤٢٥، ٤٣٢، ٤٤٧) ، سنن الدارمی/النکاح ٢ (٢٢١٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ اب خلوت کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ ٢ ؎ : ہوسکتا ہے کہ ابن مسعود (رض) نے علقمہ سے وہ گفتگو بیان کی ہو جو عثمان نے خلوت میں ان سے کی تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ عثمان (رض) نے علقمہ (رض) کے آنے کے بعد اپنی بات پوری کرتے ہوئے علقمہ کی موجودگی میں اسے عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہا ہو۔ ٣ ؎ : آدمی جب نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو اس کے لئے نکاح کرنا مسنون ہے، اور بعض کے نزدیک اگر گناہ میں پڑجانے کا خطرہ ہو تو واجب یا فرض ہے، اس کے فوائد یہ ہیں کہ اس سے افزائش نسل کے علاوہ شہوانی جذبات کو تسکین ملتی ہے، اور زنا فسق و فجور سے آدمی کی حفاظت ہوتی ہے۔
2047
Abu Dawoodحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے : ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ١٥ (٥٠٩٠) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٥ (١٤٦٦) ، سنن النسائی/النکاح ١٣ (٣٢٣٢) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (١٨٥٨) ، مسند احمد (٢/٤٢٨) ، سنن الدارمی/النکاح ٤ (٢٢١٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٣٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی عام طور پر عورت سے نکاح انہیں چار چیزوں کے سبب کیا جاتا ہے، ایک دیندار مسلمان کو چاہیے کہ ان سب اسباب میں دین کو ترجیح دے۔
2048
Abu Dawoodحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَتَزَوَّجْتَ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا، فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا بِكْرٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ،
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم نے شادی کرلی ؟ میں نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : کنواری سے یا غیر کنواری سے ؟ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ ﷺ نے فرمایا : کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٢٤٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٤ (٢٠٩٧) ، الوکالة ٨ (٢٣٠٩) ، الجہاد ١١٣ (٢٩٦٧) ، المغازي ١٨ (٤٠٥٢) ، النکاح ١٠ (٥٠٧٩) ، ١٢١ (٥٢٤٥) ، ١٢٢ (٥٢٤٧) ، النفقات ١٢ (٥٣٦٧) ، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٧) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٦ (٧١٥) ، سنن الترمذی/النکاح ١٣ (١١٠٠) ، سنن النسائی/النکاح ٦ (٣٢٢١) ، ١٠ (٣٢٣٦) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٧ (١٨٦٠) ، مسند احمد (٣ /٢٩٤، ٣٠٢، ٣٠٨، ٣١٤، ٣٦٢، ٣٦٩، ٣٧٤، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٢ (٢٢٦٢) (صحیح )
2049
Abu Dawoodحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ: غَرِّبْهَا، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي، قَالَ: فَاسْتَمْتِعْ بِهَا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے سے جدا کر دو ، اس شخص نے کہا : مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ١٢ (٣٢٣١) ، والطلاق ٣٤ (٣٤٩٤، ٣٤٩٥) ، ( تحفة الأشراف : ٦١٦١) (صحیح )
2050
Abu Dawoodحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ابْنَ أُخْتِ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْمَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ: لَا، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ.
معقل بن یسار (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کرلوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (بروز قیامت) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ١١ (٣٢٢٩) ، ( تحفة الأشراف : ١١٤٧٧) (حسن صحیح )
2051
Abu Dawoodحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ كَانَ يَحْمِلُ الْأَسَارَى بِمَكَّةَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا: عَنَاقُ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْكِحُ عَنَاقَ ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3، فَدَعَانِي، فَقَرَأَهَا عَلَيَّ، وَقَالَ: لَا تَنْكِحْهَا.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی (رض) قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، مرثد (رض) کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں عناق سے شادی کرلوں ؟ آپ ﷺ خاموش رہے تو آیت کریمہ والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرک نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا : تم اس سے شادی نہ کرنا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر سورة النور (٣١٧٧) ، سنن النسائی/النکاح ١٢ (٣٢٣٠) ، ( تحفة الأشراف : ٨٧٥٣) (حسن صحیح )
2052
Abu Dawoodحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا يَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ. وقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٣٠٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٤) (صحیح )
2053
Abu Dawoodحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ.
ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرلے تو اس کے لیے دوہرا ثواب ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣١ (٩٧) ، العتق ١٤ (٢٥٤٤) ، ١٦ (٢٥٤٧) ، الجہاد ١٥٤ (٣٠١١) ، أحادیث الأنبیاء ٤٧ (٣٤٤٦) ، النکاح ١٣ (٥٠٨٣) ، صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٥٤) ، سنن النسائی/النکاح ٦٥ (٣٣٤٧) ، ( تحفة الأشراف : ٩١٠٨، ٩١٧٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/النکاح ٢٤ (١١١٦) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٢ (١٩٥٦) ، مسند احمد (٤/٣٩٥، ٣٩٨، ٤١٤، ٤١٥) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٦ (٢٢٩٠) ، (صحیح )
2054
Abu Dawoodحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین صفیہ (رض) کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧٦ (١٣٤٥) ، النکاح ١٤ (١٣٦٥) ، سنن الترمذی/النکاح ٢٣ (١١١٥) ، والسیر ٣ (١٥٥٠) ، سنن النسائی/النکاح ٦٤ (٣٣٤٤، ٤٢٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٦٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (٣٧١) ، صلاة الخوف ٦ (٩٤٧) ، البیوع ١٠٨ (٢٢٢٨) ، الجہاد ٧٤ (٢٨٩٣) ، المغازي ٣٨ (٤٢٠٠) ، النکاح ١٣ (٥٠٨٦) ، الأطعمة ٨ (٥٣٨٧) ، ٢٨ (٥٤٢٥) ، الدعوات ٣٦ (٦٣٦٣) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٢ (١٩٥٧) ، مسند احمد (٣/٩٩، ١٣٨، ١٦٥، ١٧٠، ١٨١، ١٨٦، ٢٠٣، ٢٣٩، ٢٤٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٥ (٢٢٨٨) (صحیح )
2055
Abu Dawoodحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَزَوْجِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الرضاع ٢ (١١٤٧) ، سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٣٤٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٦) ، فرض الخمس ٤ (٣١٠٥) ، تفسیر سورة السجدة ٩ (٤٧٩٢) ، النکاح ٢٢ (٥١٠٣) ، ١١٧ (٥٢٣٩) ، الأدب ٩٣ (٦١٥٦) ، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٤ (١٩٣٧) ، موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٥) ، مسند احمد (٦/٤٤، ٥١، ٦٦، ٧٢، ١٠٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٥) (صحیح )