2137
Abu Dawoodحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ تَعْنِي فِي مَرَضِهِ فَاجْتَمَعْنَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ، فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِي فَأَكُونَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ، فَأَذِنَّ لَهُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا : اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں ، چناچہ ان سب نے آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٧٦٨٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦١٨) ، مسند احمد (٦/٣١ ١٨٧، ٢٩١) (صحیح )