2905
Abu Dawoodحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا غُلَامًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): هَلْ لَهُ أَحَدٌ ؟، قَالُوا: لَا إِلَّا غُلَامًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِيرَاثَهُ لَهُ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مرگیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کرچکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : کیا کوئی اس کا وارث ہے ؟ لوگوں نے کہا : کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کردیا تھا تو آپ ﷺ نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الفرائض ١٤ (٢١٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١١ (٢٧٤١) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢١، ٣٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی عوسجہ مجہول ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتق ( آزاد کیا ہوا) بھی وارث ہوتا ہے جب آزاد کرنے والے کا کوئی اور وارث نہ ہو، لیکن جمہور اس کے خلاف ہیں اور حدیث بھی ضعیف ہے۔