4952
Abu Dawoodحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاصیہ کا نام بدل دیا ١ ؎، اور فرمایا : تو جمیلہ ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الآداب ٣ (٢١٣٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٦٦ (٢٨٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٥، ٧٨٧٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٢ (٣٧٣٣) ، مسند احمد (٢/١٨) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٢ (٢٧٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عاصیہ عمر کی بیٹی تھی جس کے معنی گنہگارو نافرمان کے ہیں۔ ٢ ؎ : یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔