An Nasai
11. نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
سنن النسائي
877
An Nasaiأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي سَالِمٌ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کرلیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب سمع اللہ لمن حمده کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ١ ؎، اور ربنا ولک الحمد کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٥ (٧٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٤١) ، صحیح البخاری/الأذان ٨٣ (٧٣٥) ، ٨٤ (٧٣٦) ، ٨٦ (٧٣٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٧٦ (٢٥٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥ (٨٥٨) ، موطا امام مالک/الصلاة ٤ (١٦) ، مسند احمد ٢ / ٨، ١٨، ٤٤، ٤٧، ٦٢، ١٠٠، ١٤٧، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٤٧، ١٣٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں کیونکہ اگر رفع یدین کا نہ کرنا کبھی کبھی ثابت بھی ہوجائے تو یہ رفع یدین کے سنت نہ ہونے پر دلیل نہیں، کیونکہ سنت کی شان ہی یہ ہے کہ اسے کبھی کبھی ترک کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 876
878
An Nasaiأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ قَالَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوجاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور سمع اللہ لمن حمده کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٤ (٧٣٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٧٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 877
879
An Nasaiأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے، اور سمع اللہ لمن حمده، ربنا ولک الحمد کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٣ (٧٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٩١٥) ، موطا امام مالک/الصلاة ٤ (١٦) ، مسند احمد ٢/١٨، ٦٢، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٥) ، ٧١ (١٣٤٧، ١٣٤٨) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ١٠٥٨، ١٠٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 878
880
An Nasaiأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: آمِينَ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورة فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٧٦٣) ، مسند احمد ٤/٣١٨، سنن الدارمی/الصلاة ٣٥ (١٢٧٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٤) (بدون ذکر آمین) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤ (٨٥٥) ، (بدون ذکر رفع الیدین) ، مسند احمد ٤/٣١٥ (بدون ذکر رفع الیدین) ، ٣١٦ (بدون ذکر آمین) ٣١٨ (بتمامہ) ، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند : صحیح مسلم/الصلاة ١٥ (٤٠١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥ (٨٦٧) ، مسند احمد ٤/٣١٦، ٣١٧، ٣١٨، ٣١٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بعض روایتوں میں یرفع بہا صوتہ کے بجائے یخفض بہا صوتہ ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل (رض) سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 879
881
An Nasaiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنْمَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ): أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ.
مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے (تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے) ۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١١٨ (٧٤٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥ (٨٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٤) ، مسند احمد ٣/٤٣٦، ٤٣٧، ٥/٥٣، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٦) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ١٠٢٥، ١٠٥٧، ١٠٨٦، ١٠٨٧، ١٠٨٨، ١١٤٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 880
882
An Nasaiأَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا (تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہوگئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لیے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 881
883
An Nasaiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قال: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ (ﷺ)إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ.
وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہوجاتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥٩) ، مسند احمد ٤/٣١٦ (ضعیف الإسناد) (لیکن شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت صحیح ہے، دیکھئے رقم : ٨٨٠ کی تخریج ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 882
884
An Nasaiأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ، قال: جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ: ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ مَدًّا وَيَسْكُتُ هُنَيْهَةً وَيُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ.
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے : تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ١ ؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ٢ ؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١١٩ (٧٥٣) مختصراً ، سنن الترمذی/فیہ ٦٣ (٢٤٠) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٨١) ، مسند احمد ٢/٣٧٥، ٤٣٤، ٥٠٠، سنن الدارمی/الصلاة ٣٢ (١٢٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے وقت میں بعض سنتوں پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ٢ ؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، جیسا کہ حدیث رقم ( ٨٩٦ ) میں جو آرہی ہے صراحت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 883
885
An Nasaiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّفَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا : واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے (پھر) فرمایا : وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے (نماز پڑھنا) سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ١ ؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہوجائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٧) ، ١٢٢ (٧٩٣) ، الإستئذان ١٨ (٦٢٥٢) ، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٧) ، صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٧) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٥٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٣) ، وقد أخرجہ : (تحفة الأشراف : ١٤٣٠٤) ، مسند احمد ٢/٤٣٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مؤلف نے تکبیر تحریمہ کی فرضیت پر استدلال کی۔ ٢ ؎: اس سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 884
886
An Nasaiأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قال: قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ (ﷺ)مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِفَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ: لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا : اللہ أكبر کبيرا والحمد لله كثيرا و سبحان اللہ بكرة وأصيلا اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : یہ کلمے کس نے کہے ہیں ؟ تو اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٧ (٦٠١) ، سنن الترمذی/الدعوات ١٢٧ (٣٥٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٦٩) ، مسند احمد ٢/١٤، ٩٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ہر ایک چاہتا تھا کہ اسے اللہ کے حضور لے جانے کا شرف اسے حاصل ہو۔ ٢ ؎: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان صحیح احادیث میں متعدد اذکار اور ادعیہ کا ذکر آیا ہے، ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جاسکتی ہے، اور بعض لوگوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ سبحانک اللہم کے علاوہ باقی دیگر دعائیں نماز تہجد، اور دیگر نفل نمازوں کے لیے ہیں تو یہ مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 885